قابلِ تجدید توانائی، بیٹری ٹیکنالوجی، موسمیاتی مزاحم انفراسٹرکچر، محفوظ پینے کے پانی اور دیگر شعبوں میں نوجوانوں کی صلاحیتیں بروئے کار لا کر گرین معیشت کو فروغ دیا جا سکتا ہے، ڈاکٹر مصدق ملک

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ قابلِ تجدید توانائی، بیٹری ٹیکنالوجی، موسمیاتی مزاحم انفراسٹرکچر، محفوظ پینے کے پانی اور دیگر ماحول دوست شعبوں میں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر خطے میں گرین معیشت کو فروغ دیا جا سکتا ہے

شی زان۔19جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ قابلِ تجدید توانائی، بیٹری ٹیکنالوجی، موسمیاتی مزاحم انفراسٹرکچر، محفوظ پینے کے پانی اور دیگر ماحول دوست شعبوں میں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر خطے میں گرین معیشت کو فروغ دیا جا سکتا ہے، پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی اعتماد پر مبنی ہیں،گرین ہاؤس گیسوں کے بڑھتے اخراج اور عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جس کے نتیجے میں تباہ کن سیلاب اور بعد ازاں خشک سالی جیسے سنگین مسائل جنم لے رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کوچین کے شی زانگ خودمختار خطے کے دورے کے دوران پانچویں چائنا شی زانگ ٹرانس ہمالیہ فورم برائے بین الاقوامی تعاون سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

فورم میں مختلف ممالک کے پالیسی سازوں، ماہرین اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی جہاں پائیدار ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور ہمالیائی خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔اپنے خطاب میں ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ یہ فورم نہ صرف مشترکہ تہذیب، ثقافت، تنوع، سیاحت اور باہمی دوستی کا جشن ہے بلکہ انسانیت اور قدرتی ماحول کے تحفظ کے مشترکہ عزم کا اظہار بھی ہے۔ انہوں نے حکومتِ چین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چین ہر اچھے اور مشکل وقت میں پاکستان کا دوست رہا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد پر مبنی ہیں۔

وفاقی وزیر نے پاکستان اور چین کے درمیان ہمالیائی اور ٹرانس ہمالیائی سلسلۂ کوہ کے ذریعے موجود قدرتی اورماحولیاتی ربط کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تقریباً 13 ہزار 500 گلیشیئرز کا حامل ملک ہے جو اسے موسمیاتی تبدیلی اور گلیشیئرز کے پگھلنے کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گرین ہاؤس گیسوں کے بڑھتے اخراج اور عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جس کے نتیجے میں تباہ کن سیلاب اور بعد ازاں خشک سالی جیسے سنگین مسائل جنم لے رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پندرہ برسوں کے دوران پاکستان میں سیلابوں کے باعث تقریباً چھ ہزار افراد جاں بحق اور تقریباً بیس ہزار زخمی یا مستقل معذور ہوئے۔اسی عرصے میں تقریباً چار کروڑ افراد بے گھر ہوئے جس کے نتیجے میں طلبہ کے تقریباً ایک ارب اسی کروڑ تعلیمی دن ضائع ہوئے جو موسمیاتی تبدیلی کے انسانی اور معاشی اثرات کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ گلیشیئرز صرف قدرتی وسائل نہیں بلکہ ہماری تہذیب، معیشت اور انسانی بقا کی بنیاد ہیں، ان کے تحفظ کے لیے قدرتی وسائل کو تنازعے کا ذریعہ بنانے کے بجائے سائنسی تعاون، مشترکہ تحقیق اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا ہوگا۔وفاقی وزیر نے شی زانگ کے مختلف دیہات کے اپنے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وہاں ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان ایک مثالی توازن دیکھا جہاں قدرتی ماحول کو محفوظ رکھتے ہوئے معاشی ترقی کو فروغ دیا جا رہا ہے،یہ ماڈل دنیا کے دیگر پہاڑی علاقوں کے لیے بھی قابلِ تقلید مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ مختلف ممالک گلیشیئرز اورموسمیاتی تبدیلی پر انفرادی سطح پر تحقیق کر رہے ہیں، تاہم سرحدوں سے ماورا مشترکہ سائنسی تحقیق کا فقدان ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ہمالیائی خطے سے وابستہ ممالک کو مشترکہ تحقیق اور علمی تعاون کے ذریعے موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اجتماعی حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے۔اس مقصد کے لیے وفاقی وزیر نے تین اہم علاقائی اقدامات تجویز کیے، پہلی تجویز ورچوئل گرین یونیورسٹی کے قیام کی تھی جس کے ذریعے خطے کی جامعات، محققین، سکالرز اور طلبہ کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لا کر گلیشیئرز، موسمیاتی تبدیلی، ماحولیات، معیشت اور پائیدار ترقی کے موضوعات پر مشترکہ تحقیق کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس پلیٹ فارم سے حاصل ہونے والا علمی سرمایہ مستقبل میں آرکٹک سمیت دنیا کے دیگر حساس ماحولیاتی خطوں کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔دوسری تجویز گرین فیلڈز کے عنوان سے پیش کی گئی جس کا مقصد نوجوان کاروباری افراد کو مالی معاونت، سرمایہ کاری اور تکنیکی رہنمائی فراہم کرکے قابلِ عمل گرین سٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی، بیٹری ٹیکنالوجی، موسمیاتی مزاحم انفراسٹرکچر، محفوظ پینے کے پانی اور دیگر ماحول دوست شعبوں میں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر خطے میں گرین معیشت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔وفاقی وزیر نے تیسری تجویز گرین کلاؤڈ کے قیام کی پیش کی جس کے تحت سرکاری جامعات اور عوامی وسائل سے ہونے والی سائنسی تحقیق اور دانشورانہ املاک کو ایک مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر دستیاب کیا جائے تاکہ محققین، سائنسدان، اختراع کار اور نوجوان کاروباری افراد اس سے استفادہ کرتے ہوئے نئی ماحول دوست ٹیکنالوجیز اور حل تیار کر سکیں۔

اختتام پر ڈاکٹر مصدق ملک نے تمام شریک ممالک پر زور دیا کہ وہ گلیشیئرز کے تحفظ، مشترکہ قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال اور آئندہ نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی جیسے عالمی چیلنج سے نمٹنے کے لیے اجتماعی ذمہ داری، مشترکہ تحقیق اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے، یہی اقدامات خطے کو محفوظ، پائیدار اور خوشحال مستقبل کی جانب لے جا سکتے ہیں۔