اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر کسی عدالتی فیصلے میں فریق کے نام کی غلطی محض قلمی یا اتفاقی لغزش ہو اور اس سے فیصلے کی نوعیت یا فریقین کے حقوق متاثر نہ ہوں تو ایسی غلطی کو ضابطہ دیوانی کی دفعہ 152 کے تحت کسی بھی وقت درست کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے اس بنیاد پر …
قلمی غلطی کی درستی دفعہ 152 سی پی سی کے تحت کسی بھی وقت ممکن، اپیل کی اجازت کی درخواست مسترد ، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر کسی عدالتی فیصلے میں فریق کے نام کی غلطی محض قلمی یا اتفاقی لغزش ہو اور اس سے فیصلے کی نوعیت یا فریقین کے حقوق متاثر نہ ہوں تو ایسی غلطی کو ضابطہ دیوانی کی دفعہ 152 کے تحت کسی بھی وقت درست کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے اس بنیاد پر پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے سول پٹیشن برائے اجازت اپیل مسترد کر دی۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری ، تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 22 جنوری 2026 کو کیس کی سماعت کے بعد حکم جاری کیا تھا۔
عدالتی حکم کے مطابق اصل مقدمہ اعلامیہ و تقسیم جائیداد سے متعلق تھا جسے ٹرائل کورٹ نے 3 مارچ 2008 کو خارج کر دیا تھا، جبکہ اپیل بھی 23 اپریل 2008 کو مسترد ہو گئی تھی۔ بعد ازاں پشاور ہائی کورٹ نے 10 جون 2009 کو نظرثانی منظور کرتے ہوئے معاملہ دوبارہ اپیلیٹ کورٹ کو بھیج دیا۔ اپیلیٹ کورٹ نے 5 جون 2015 کو اپیل منظور کرتے ہوئے سابقہ ہم آہنگ فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا۔تاہم فیصلے میں بعض نکات پرآزاد خان کے بجائے غلطی سے ان کے والد بہرام خان کا نام درج ہو گیا تھاحالانکہ پورے ریکارڈ، شہادت اور دیگر مشاہدات میں درست نام آزاد خان ہی تھا۔ اس غلطی کی درستی کے لیے مدعیان نے دفعہ 152 سی پی سی کے تحت درخواست دائر کی، جسے 7 جنوری 2017 کو منظور کرتے ہوئے نام کی تصحیح کر دی گئی۔
درخواست گزاروں نے اس درستی کو چیلنج کیا، تاہم ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج اور بعد ازاں پشاور ہائی کورٹ نے بھی ان کی درخواست مسترد کر دی، جس کے خلاف سپریم کورٹ میں موجودہ پٹیشن دائر کی گئی تھی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ آرڈر 20 رول 3 سی پی سی کے تحت دستخط شدہ فیصلہ حتمی حیثیت رکھتا ہے، تاہم دفعہ 152 ایک واضح استثنا فراہم کرتی ہے جس کے تحت قلمی یا حسابی غلطیوں یا اتفاقی لغزشوں کو کسی بھی وقت درست کیا جا سکتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ اس اختیار کا استعمال تب جائز ہے جب غلطی بادی النظر میں ریکارڈ سے ظاہر ہو اور اس سے فیصلے کی ماہیت یا فریقین کے حقوق متاثر نہ ہوں۔عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ کیس میں نام کی درستی سے نہ تو کوئی نیا ریلیف دیا گیا اور نہ ہی مقدمے کے میرٹس دوبارہ کھولے گئے بلکہ یہ محض ایک واضح قلمی غلطی کی اصلاح تھی جو ریکارڈ سے عیاں تھی۔ اس لیے ہائی کورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی سقم یا اختیارات سے تجاوز ثابت نہیں ہوتا۔عدالت نے سول پٹیشن برائے اجازت اپیل مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ اپیل سننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی جبکہ متعلقہ متفرق درخواست بھی اصل مقدمہ نمٹنے کے باعث غیر مؤثر قرار دے کر نمٹا دی گئی۔








