قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کا سول سیکریٹریٹ لاہور میں بیورو کریسی سے خطاب

اسلام آباد ۔ 16 اپریل (اے پی پی) قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ بیورو کریسی ملک کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، بیورو کریسی کا ملکی ترقی میں اہم کردار ہے۔ منگل کو سول سیکریٹریٹ لاہور میں بیورو کریسی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ سمیت ملک کے مختلف اداروں میں اہم ذمہ داریاں سرانجام دی …

اسلام آباد ۔ 16 اپریل (اے پی پی) قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ بیورو کریسی ملک کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، بیورو کریسی کا ملکی ترقی میں اہم کردار ہے۔ منگل کو سول سیکریٹریٹ لاہور میں بیورو کریسی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ سمیت ملک کے مختلف اداروں میں اہم ذمہ داریاں سرانجام دی ہیں اس لئے بیورو کریسی کے مسائل سے آگاہ ہوں۔ نیب 1999ء میں قائم کیا گیا جبکہ میں چیئرمین نیب کی حیثیت سے گزشتہ 17 ماہ سے کام کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ نیب ایک خودمختار ادارہ ہے، ملکی ادارے مضبوط ہوں گے تو ملک مضبوط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ نیب کی وجہ سے بیورو کریسی نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ نیب کے ہزاروں مقدمات کا جائزہ لیا تو بیورو کریسی کے خلاف سامنے آنے والے مقدمات نہ ہونے کے برابر تھے۔ یہ مذموم پروپیگنڈا تھا جس کا مقصد نیب پر الزام تراشی اور بیوروکریسی کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نیب قانون کے مطابق ہر شخص کی عزت نفس کا احترام کرنے کے علاوہ جائز خدشات کو قانون اور آئین کے مطابق حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب آپ کا اپنا اور انسان دوست ادارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کا خاتمہ نہ صرف نیب بلکہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب ایک قومی ادارہ ہے جس کو بدعنوان عناصر سے ملک کی لوٹی ہوئی رقم برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کروانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ نیب نے بدعنوان عناصر سے 303 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرائے جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی وجہ سے آج ان اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ ہم سب کو ملک نے جو کچھ دیا ہے وہ ہم پر قرض ہے اور ہمیں یہ قرض اتارنا ہے۔ ہمیں ملک کی ترقی اور بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے مل کر کام کرنا ہے۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب اور بیورو کریسی کا تعلق کسی گروپ، گروہ، طبقہ، حکومت اورکسی سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ ہمارا تعلق پاکستان کے ساتھ ہے۔ ہر بیورو کریٹ کو ہمیشہ قانون اور ملک کے مفاد میں فیصلے کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں لیکن ریاست پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے گی۔ حکومت پالیسی سازی کرتی ہے لیکن اس پر عمل درآمد کرنا بیورو کریسی کا کام ہے۔ بیورو کریسی کو سیاسی دبائو کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہمیشہ انصاف اور قانون کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے عوام کی خدمت کرنی چاہئے۔ بیورو کریسی کو سیاسی دبائو کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہمیشہ انصاف اور قانون کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے عوام کی خدمت کرنی چاہئے۔ سزا کے خوف کی بجائے اﷲ پر یقین رکھیں گے تو مشکلات حل ہو جائیں گی کیونکہ فتح ہمیشہ حق اور سچ کی ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے بھی بیورو کریسی کے قانونی اقدامات کا تحفظ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بیورو کریسی قانون کے مطابق کام کریگی تونیب آپ کو کیوں بلائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ملک اور عوام کے مفاد میں کام کرنا ہوگا۔ وزارتوں اور ڈویژنوں میں اپنا ادارہ جاتی نظام اتنا اچھا ہو کہ معاملہ نیب تک نہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے تفتیشی نظام اور کام کرنے کے طریقہ کار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ آج کے بعد نیب میں کسی سیکریٹری اور ایڈیشنل سیکریٹری کے خلاف شکایت کا میں ذاتی طور پر جائزہ لوں گا، اسی طرح حاضر سروس اور ریٹائرڈ بیورو کریٹس کے خلاف شکایات کا ذاتی طور پر جائزہ لوں گا اور اس کے بعد اگر ضرورت پڑی تو سوال نامہ بھیجا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیب احتساب سب کے لئے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بلا امتیاز احتساب کر رہا ہے، کسی سے ناانصافی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وائٹ کالر کرائم کی تفتیش کے لئے وقت اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ چیف سیکریٹری پنجاب یوسف نسیم نے چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کے پنجاب کی بیورو کریسی سے خطاب اور ان کے اعتماد میں اضافہ کے علاوہ ان کے سوالات کے مدلل اور مفصل انداز میں جواب دینے کے علاوہ پنجاب کی بیورو کریسی کا نیب سے رابطہ کیلئے بیورو کریسی اور نیب کے فوکل پرسن کی تعیناتی پر چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کا شکریہ ادا کیا۔ آخر میں چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کی سربراہی میں پنجاب کی 56 کمپنیوں میں سے ایک کمپنی سے پلی بارگین کی مد میں تقریباً ایک ارب روپے مالیت کی جائیداد کے کاغذات چیف سیکریٹری پنجاب یوسف نسیم اور ایرا کے نمائندے کے حوالے کئے جس پر چیف سیکریٹری پنجاب اور ایرا کے نمائندے نے چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کا شکریہ ادا کیا۔

Leave a Reply