قومی اسمبلی میں کسی کو بھی پاکستان،عدلیہ و فوج مخالف بات نہیں کرنے دونگا،سپیکر ایاز صادق

لاہور۔17جنوری (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ کسی کو بھی پارلیمنٹ میں ریاست ، عدلیہ اور فوج مخالف بات کرنے نہیں دوں گا، کوئی بھی ججز کے کردار پر بات کرے گاتو اجازت نہیں ملے گی، یہ چیزیں آئین میں ہیں اور یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں نے پارلیمان کس طرح چلانا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل کالج آف آرٹس …

لاہور۔17جنوری (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ کسی کو بھی پارلیمنٹ میں ریاست ، عدلیہ اور فوج مخالف بات کرنے نہیں دوں گا، کوئی بھی ججز کے کردار پر بات کرے گاتو اجازت نہیں ملے گی، یہ چیزیں آئین میں ہیں اور یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں نے پارلیمان کس طرح چلانا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل کالج آف آرٹس کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں انہوں نے آرٹ گیلری کا بھی دورہ کیا۔انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی ہوں یا کوئی اور میرے لئے وہ پارلیمنٹ کے ممبر ہیں،جو بھی پاکستان مخالف بات کرے گا میں اسے روکوں گا۔انہوں نے کہا کہ کہیں نہیں لکھا کہ قائد حزب اختلاف جب بھی کھڑے ہوں تو انہیں بات کرنے کا موقع دیا جائے، اگر وہ ٹھیک بات کریں گے تو ان کو موقع ملتا رہے گا اور یہ روایت بھی ہے لیکن یہ نہ آئین میں ہے اور نہ ہی قواعد میں۔

سپیکر نے کہا کہ اپوزیشن حکومت کا محاسبہ کرے،کمیٹیوں میں آئیں، اپنا کام کریں جس کے کرنے کی ضرورت ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں وزیراعظم محمدشہباز شریف سے مشاورت کرتا ہوں لیکن وہ کسی کام سے مجھے روکتے نہیں ،مشاورت جتنے زیادہ لوگوں سے ہو وہ بہتر ہے۔ قائد حزب اختلاف کے نوٹیفیکیشن میں تاخیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ معاملہ عدالت میں تھا ،جیسے ہے کیس واپس لیا گیا ہم نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت مضبوط اورذخائر بڑھ رہے ہیں،ریمیٹنس کے لئے کہا گیا تھا کہ نہ بھیجیں لیکن وہ بھی 40 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ۔ا ن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی تاریخ میں کبھی اتنی اچھی نہیں تھی جتنی آج ہے،امریکا کے ساتھ ساتھ چین ، روس اور سعودی عرب سے بھی دوستی ہے، وہ ملک بتائیں جس سے ہماری دوستی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ملک اور دہشت گردوں سے مسئلہ ہے جو ہمارے بچوں ،جوانوں اور خواتین کی جانوں کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہر ملک اور ہرجگہ مافیاز ہوتے ہیں اور ہمارے ہاں بھی ہیں، ان کے خلاف لڑنا ہمارا اور عوام کا بھی کام ہے، ان مافیاز کے ساتھ لڑتے رہیں گے۔8 فروری کے احتجاج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پر امن احتجاج ضرور کریں لیکن اس میں خون خرابہ نہ ہو ،لوگوں کی جان و مال کو نقصان نہ پہنچایا جائے،جب لوگوں کے جانوں کو خطرہ ہو، ہاتھوں میں ڈنڈے اور بندوق ہوں تو ایسے احتجاج پر تشویش ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ان کو مشورہ دے سکتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں آئیں، ملک اور عوام کی بہتری کے لئے کام کریں کیونکہ پارلیمنٹیرین کا اصل کام یہی ہے۔سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ وائس چانسلر کی دعوت پریہاں نمائش دیکھنے آیا تھا، یہ معیاری یونیورسٹی ہے، یہاں کے طلبہ عملی میدان میں جاتے اور پاکستان کا نام روشن کررہے ہیں جوہمارے لئے باعث فخر ہیں۔