قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال 2020-21ءکے لئے مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے 42 کھرب 53 ارب 90 لاکھ 27 ہزار روپے کے مجموعی طور پر 190 مطالبات زر کی منظوری دےدی

اسلام آباد ۔ 27 جون (اے پی پی) قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال 2020-21ءکے لئے مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے 42 کھرب 53 ارب 90 لاکھ 27 ہزار روپے کے مجموعی طور پر 190 مطالبات زر کی منظوری دے دی ہے۔ ہفتہ کو قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے اپنی وزارت کے 5 مطالبات زر ایوان میں پیش کئے۔ جن پر اپوزیشن کی جانب …

اسلام آباد ۔ 27 جون (اے پی پی) قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال 2020-21ءکے لئے مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے 42 کھرب 53 ارب 90 لاکھ 27 ہزار روپے کے مجموعی طور پر 190 مطالبات زر کی منظوری دے دی ہے۔ ہفتہ کو قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے اپنی وزارت کے 5 مطالبات زر ایوان میں پیش کئے۔ جن پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی تحاریک پیش کرتے ہوئے رومینہ خورشید عالم اور دیگر نے بعض تحفظات کا اظہار کیا جن کے جواب میں وفاقی وزیر حماد اظہر کا کہنا تھا کہ آئندہ سال آٹو پالیسی دی جائے گی جس میں گاڑیوں کے سیفٹی سٹینڈرز کو یقینی بنایا جائے گا اور ساتھ ساتھ اس صنعت کی لوکلائزیشن پر توجہ دی جائے گی۔ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے اس مسئلے کو مس ہینڈل کیا۔ موجودہ حکومت کی کاوشوں سے ایف اے ٹی ایف کی زیادہ تر شرائط کو پورا کردیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی نے وزارت صنعت و پیداوار کے مطالبات زر کی منطوری دے دی۔ وزارت داخلہ کے 6 مطالبات زر وفاقی وزیر حماد اظہر نے یکے بعد دیگرے ایوان میں پیش کئے جن پر اپوزیشن کی جانب سے رانا ثنااللہ ‘ احسن اقبال عبدالقادر پٹیل اور دیگر نے کٹوتی کی تحریک پر ایف آئی اے ‘ اینٹی کرپشن اور دیگر شعبوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ وزارت داخلہ کے مطالبات زر پر ارکان کی طرف سے اٹھائے گئے نکات پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ ہم ارکان کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات پر ناراض نہیں ہیں۔ سب سے پہلے انہیں اپنے اپنے لیڈرز سے بھی سوالات کرنے چاہئیں۔ وزیراعظم ہاﺅس کے لئے بجٹ مختص کرنا اہم نہیں‘ سوال یہ ہے کہ وزیراعظم ہاﺅس نے خرچہ کتنا کیا ہے۔ وزیراعظم ہاﺅس نے 137 ملین سرنڈر کئے ہیں۔ ماضی میں وزیراعظم ہاﺅس کے اخراجات بادشاہانہ انداز میں کئے جاتے تھے اور ضمنی بجٹ مانگا جاتا تھا۔ ہمارے دور میں سول ملٹری اخراجات کم کئے گئے۔ کفایت شعاری مہم کے تحت قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے بھی 75 کروڑ روپے کی بچت کرکے سرنڈر کی۔ وزیراعظم ہاﺅس میں ان کے دور میں 500 ملازمین کیوں رکھے گئے۔ وزیراعظم ہاﺅس کا خرچہ 1 ارب 40 کروڑ سے کم ہو کر موجودہ دور میں 67 کروڑ تک آگیا ہے۔ عمران خان کا کوئی کیمپ آفس نہیں ہے۔ نواز شریف نے رائے ونڈ کی رہائش گاہ کو بھی کیمپ آفس کا درجہ دے رکھا تھا۔ شہباز شریف کا ماڈل ٹاﺅن اور مری کا بنگلہ کیمپ آفس تھے۔ وہاں تمام اخراجات سرکاری طور پر ادا کئے جاتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کے دورے پر نواز شریف نے 5 لاکھ 49 ہزار ڈالر‘ آصف علی زرداری نے 7 لاکھ ڈالر اور عمران خان نے صرف 67 ہزار ڈالر خرچ کئے۔ اقوام متحدہ کے دورے میں وزیراعظم عمران خان نے کشمیر اور ختم نبوت کا مقدمہ پیش کیا۔ اس دورے پر عمران خان نے صرف ایک لاکھ 62 ہزار ڈالر خرچ کئے۔ اس سے قبل آصف علی زرداری نے 13 ملین ڈالر اور نواز شریف نے 11 ملین ڈالر خرچ کئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا ایک وزیر خزانہ تو اب بھی مفرور ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری داخلہ شوکت علی نے بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک میں مثالی امن و امان ہے۔ اسلام آباد پوری دنیا میں دوسرے نمبر پر خوبصورت اور سرسبز ترین دارالحکومت ہے۔ وزیراعظم نے خصوصی ہدایت کی ہے کہ اسلام آباد کو دنیا کا پہلے نمبر کا خوبصورت ترین دارالخلافہ بنایا جائے۔ اسلام آباد سمیت ملک بھر میں لاکھوں درخت لگائے گئے۔ لوگوں کو ریلیف دینے کے لئے لنگر خانے قائم کئے گئے۔دیہاڑی دار مزدوروں کو ریلیف دیا۔ اس کے بعد ایوان نے وزارت داخلہ کے تمام مطالبات زر کی منظوری دے دی۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے آئندہ مالی سال 2020-21ءکے 4 مطالبات زر ایوان میں پیش کئے جن پر اپوزیشن کی طرف سے کٹوتی کی تحاریک پیش کی گئیں جن کی وزیر مملکت علی محمد خان نے مخالفت کی۔ کٹوتی کی تحاریک کے حق میں راﺅ اجمل خان‘ خورشید احمد جونیجو‘ چوہدری محمد اشرف‘ سید حسین طارق اور مولانا عبدالشکور نے اس بات پر زور دیا کہ چاول‘ مکئی اور آلو کی فصل کی امدادی قیمت مقرر کی جائے۔ ٹڈی دل کے دوسرے حملے کی پیشگی تیاری نہ کی گئی تو ہرے بھرے کھیت اور فصلیں اجڑ جائیں گی۔ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ سے زراعت پیشہ افراد شدید متاثر ہوں گے۔ ملک میں ماحولیاتی تبدیلی پر تحقیق پر توجہ وقت کا اہم تقاضا ہے۔ وانا میں زیتون‘ چلغوزہ اور ٹماٹر کی کاشت کو فروغ دیا جائے اور ان علاقوں میں بارانی ڈیم تعمیر کئے جائیں۔ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ سید فخر امام نے ارکان کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کورونا نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وزیراعظم نے تعمیرات کے شعبے کو نمبر ون قرار دیا تھا لیکن میں زراعت کے شعبے کو نمبر ون سمجھ رہا ہوں۔ پاکستان کے لئے سب سے بڑا چیلنج کورونا وائرس اور ٹڈی دل ہے۔ ٹڈی دل سے نمٹنے کے لئے تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹڈی دل سے نمٹنے کے لئے ہم نے گیارہ جہاز کرائے پر حاصل کر لئے ہیں۔ وفاق اور صوبوں نے ٹڈی دل سے نمٹنے کے لئے پچیس ارب روپے کا فنڈ مختص کیا ہے۔ ہم سوئے ہوئے نہیں ہیں، بہت متحرک ہوکر کام کر رہے ہیں۔

مزید خبریں