اسلام آباد ۔ 12 اگست (اے پی پی) قومی اسمبلی نے انسداد دہشتگردی (ترمیمی) بل 2020ء کی منظوری دے دی ہے۔ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ اسلام امن کا دین ہے اسے دہشتگردی سے نہیں جوڑا جاسکتا' قانون سازی میں بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے تحریک پیش کی کہ انسداد دہشتگردی (ترمیمی) …
قومی اسمبلی نے انسداد دہشتگردی (ترمیمی) بل 2020ء کی منظوری دے دی اسلام امن کا دین ہے اسے دہشتگردی سے نہیں جوڑا جاسکتا، وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 12 اگست (اے پی پی) قومی اسمبلی نے انسداد دہشتگردی (ترمیمی) بل 2020ء کی منظوری دے دی ہے۔ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ اسلام امن کا دین ہے اسے دہشتگردی سے نہیں جوڑا جاسکتا’ قانون سازی میں بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے تحریک پیش کی کہ انسداد دہشتگردی (ترمیمی) بل 2020ء زیر غور لایا جائے۔سید نوید قمر نے کہا کہ دہشتگردی کی صورتحال میں ملک نے بہت مسائل کا سامنا کیا ہے۔ یہ بل کالعدم تنظیموں پر پابندی سے متعلق ہے جو بھی پاکستان یا پاکستان سے باہر اسلام کے نام پر دہشتگردی کرتا ہے ہم سب اس کے خلاف مل کر لڑیں گے تاہم جو شخص دہشتگرد نہیں ہے وہ اس قانون کی زد میں آتا ہے تو ہمیں اس قانون میں وہ چیزیں شامل کرنی چاہئیں جس سے بے گناہ متاثرہ شخص کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے۔ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ہمارا مقصد پاکستان کے شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہے۔ ہم نے پہلے بھی قانون سازی میں اس بات کا اصرار کیا کہ مالیاتی ٹرانزیکشنز میں کسی بزنس مین کا حق متاثر نہ ہو۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہاں منی لانڈرنگ رہی ہے ہم نے اس کا تدارک کرنا ہے۔ قانون سازی متوازن ہونی چاہیے۔ ارکان کی مثبت تجاویز شامل کی جائیں گی۔ میں وزیر قانون اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف لوگ کہہ رہے تھے کہ جب تک نیب کا قانون نہیں آئے گا دوسری قانون سازی نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے کہنے سے قبل ہی ہمیں یہ قانون سازی ازخود کرلینی چاہیے تھی۔ ہم نے تمام ارکان کی طرف سے تعمیری تجاویز کا خیر مقدم کیا اور اتفاق رائے پیدا ہوا۔ نادان دوستوں کی وجہ سے ایوان کا ماحول خراب ہوتا ہے۔ سید نوید قمر نے کہا کہ قومی فریضہ کے تحت ہم اتفاق رائے پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسی باتوں سے ماحول خراب نہ کیا جائے۔ کوئی رکن پہلی دفعہ ایوان کا رکن بنے یا آٹھ مرتبہ سب کی عزت یکساں ہے۔ محسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ ہم نے بطور رکن قومی اسمبلی آئین کے تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پاکستان کے عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔ شاہدہ اختر علی نے کہا کہ ہم آئین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف ہیں۔ ہم نے اس حوالے سے اپنی ترامیم دے رکھی ہیں۔ بعض امور ہمارے نقطہ نظر درست ہیں اور امریکہ کی نظر میں دہشتگردی سمجھی جاتی ہے۔ حکومت ہماری ترامیم سے متفق ہو یا نہ ہو ہم اپنی بات کریں گے۔ ہم بھی اتنے ہی دہشتگردی کے خلاف ہیں جتنے دیگر لوگ ہیں۔ ہم موثر قانون سازی چاہتے ہیں اور بل کے مسودے میں کوئی ابہام نہ ہو۔ اللہ کرے پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے۔ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ اس قانون کی اتفاق رائے سے منظوری پر تمام ارکان کا شکر گزار ہوں، ہم سب کا مقصد ایک ہے۔ آئین نے جو بنیادی انسانی حقوق دیئے ہیں ان کی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔ ہم نے اپوزیشن کی تجاویز کا خیر مقدم کیا ہے۔ زیادہ قانون سازی کی نشاندہی کی جائے ہم اس کو کم کریں گے۔ ہم ملک کی معیشت کو بلیک سے وائٹ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر پاکستان کو آگے جانا ہے اور ترقی یافتہ ملک بنانا ہے تو ہمیں ایف اے ٹی ایف اور منی لانڈرنگ جیسے معاملات پر توجہ دینا ہوگی۔ ساری دنیا میں ان کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ بے نامی ٹرانزیکشنز کا ختم ہونا اور معیشت کا وائٹ ہونا بنیادی انسانی حقوق کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب اور دہشتگردی میں فرق واضح ہے۔ اسلام امن کا دین ہے۔ مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ دارالحکومت اسلام آباد ٹرسٹ بل 2020ء کی بعض شقوں پر ہمارے تحفظات ہیں۔ یہ بل ہم بیرونی دبائو پر منظور کر رہے ہیں۔ اس بل کی منظوری کے بعد کوئی بھی دین دار شخص رفاہ کے کام نہیں کر سکے گا، اللہ کی رضا اور دین کا کام نہیں ہوگا۔ اس بل کو بھی فی الحال موخر کیا جائے اور قابل عمل بنا کر منظور کیا جائے۔ اختر مینگل نے کہا کہ بلوں پر اپوزیشن اور حکومت کی طرف سے اتفاق رائے پیدا ہونا خوش آئند ہے مگر بلوچستان نیشنل پارٹی اس اتفاق رائے میں شامل نہیں ہے کیونکہ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ہم اس کی ہاں یا نہ میں شامل نہیں ہیں۔ ہم نے اندرونی اور بیرونی دبائو پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ سب سے پہلے دہشتگردی کی تعریف کا تعین ہونا چاہیے۔ سابق وزراء اعظم نواز شریف اور راجہ پرویز اشرف کو بھی ماضی میں دہشتگرد قرار دیا گیا۔ کیا کسی کے خلاف شیشہ توڑنے والا دہشگرد قرار دیا جاتا ہے۔ بل کی پہلی خواندگی پر ایوان سے رائے لی گئی جس کی ایوان نے منظوری دے دی۔ اس کے بعد سپیکر نے بل کی مختلف شقوں کی ایوان سے یکے بعد دیگرے منظوری لی۔ بل کی بعض شقوں میں حکومت کی طرف سے پارلیمانی سیکرٹری ملیکا بخاری نے ترامیم پیش کیں جن کی ایوان نے منظوری دے دی۔ وزیر قانون فروغ نسیم نے تحریک پیش کی کہ انسداد دہشتگردی (ترمیمی) بل 2020ء منظور کیا جائے۔ قومی اسمبلی نے بل کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔








