قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم ڈویژن کے اجلاس میں گزشتہ اجلاس کی کارروائی کی توثیق، سابقہ سفارشات پر عملدرآمد اور پیٹرولیم شعبے سے متعلق اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم ڈویژن کا اجلاس ،سابقہ سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔7جولائی (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم ڈویژن کا اجلاس منگل کوپارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں کمیٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ محمود رکن قومی اسمبلی کی زیر صدارت منعقد ہواجس میں گزشتہ اجلاس کی کارروائی کی توثیق کے ساتھ سابقہ سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران کمیٹی ارکان نے پیٹرولیم ٹریننگ فنڈ (پی ٹی ایف) کے استعمال، ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن(ای اینڈ پی) کمپنیوں کی جانب سے صوبائی حصے کے تحت جمع کرائی گئی رقوم، صوبائی محکمہ توانائی کی جانب سے فنڈ کےاستعمال اور مقامی آبادی کی فلاح پر ہونے والے اخراجات سےمتعلق متعدد سوالات اٹھائے۔پیٹرولیم ڈویژن اور چاروں صوبوں کے نمائندوں نے کمیٹی کو فنڈ کےقیام سے اب تک کی صورتحال سے آگاہ کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبوں کے پاس اس وقت پیٹرولیم ٹریننگ فنڈ کی مد میں 1956.49ملین روپے کی رقم تاحال استعمال نہیں کی گئی۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ سندھ محکمہ توانائی کو ای اینڈ پی کمپنیوں سے ایک ارب 3 کروڑ 23 لاکھ 40 ہزار روپے موصول ہوئے، پنجاب محکمہ توانائی کو 33 کروڑ 43 لاکھ 90 ہزار روپے جبکہ خیبرپختونخوا محکمہ توانائی کو 20 کروڑ 22 لاکھ 80 ہزار روپے ملے، جن میں سے ایک کروڑ 12 لاکھ روپے ضلع کرک کے مستحق طلبہ کو تکنیکی تربیتی کورسز کرانے پر خرچ کئے گئے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ بلوچستان محکمہ توانائی کو 53 کروڑ 7 لاکھ 60 ہزار روپے موصول ہوئے تاہم اس میں سے صرف 84 لاکھ 10 ہزار روپے محکمہ کے ملازمین کی استعداد کار بڑھانے پر خرچ کئے گئے جبکہ مقامی آبادی کی فلاح کے لیے کوئی رقم استعمال نہیں کی گئی۔تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے سفارش کی کہ پیٹرولیم ٹریننگ فنڈ کے معاملے پر الگ اجلاس منعقد کیا جائے۔ کمیٹی نے پیٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی کہ فنڈ کی موجودہ صورتحال،استعمال، ای اینڈ پی کمپنیوں کی واجب الادا رقوم اور فنڈ کے استعمال سے متعلق قواعد پر مشتمل جامع رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔ کمیٹی نے ای اینڈ پی فنڈ سے متعلق مجوزہ پالیسی رہنما اصولوں کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی۔کمیٹی ارکان نے زور دیا کہ پیٹرولیم ٹریننگ فنڈ کو شفاف اور مؤثر انداز میں ان علاقوں کی مقامی آبادی کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائےجہاں پیٹرولیم وسائل کی تلاش اورپیداوار کا عمل جاری ہے۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں فنڈ کی ضلع وار تفصیلات اورمقامی آبادی کی ترقی کے علاوہ دیگر مدات میں کئے گئے اخراجات کی مکمل رپورٹ بھی پیش کی جائے۔اجلاس میں پیٹرولیم ڈویژن نے غیر حساب شدہ گیس کے معاملے پر بھی بریفنگ دی جس کے بعد کمیٹی نے اس اہم مسئلے کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے علیحدہ اجلاس منعقد کرنے کی سفارش کی۔وفاقی وزیر پیٹرولیم نے کمیٹی کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) اور (آر ایل این جی) سے متعلق بھی بریفنگ دی۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی اجلاس بلایا جائے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حالیہ قیمتوں کے تعین میں قانونی تقاضے پورے کیے گئے یا نہیں اور آیا آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے لازمی عوامی سماعتیں منعقد کی تھیں یا نہیں۔کمیٹی نے اس حوالے سے بھی تفصیلی رپورٹ آئندہ اجلاس میں طلب کر لی۔ ایک رکن نے اوگرا کے پیٹرولیم قیمتوں سے متعلق فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا، جس پر کمیٹی نے سفارش کی کہ یہ معاملہ اوگرا کے آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔اجلاس میں قومی اسمبلی کے اراکین سردار غلام عباس، محمد بلال بدر، شائستہ خان، میان خان بگٹی، سید نوید قمر، اسد عالم نیازی، صلاح الدین جونیجو، محمد معین عامر پیرزادہ اور گل اصغر خان نے شرکت کی۔اس کے علاوہ پیٹرولیم ڈویژن، ایس این جی پی ایل، پی ایل ایل، ایس ایس جی سی، ڈی جی پی سی، اوگرا اور پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے محکمہ توانائی کے اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔








