قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں (این سی ایس ڈبلیو ) کی چیئرپرسن نورین بانو لہڑی کی زیرِ صدارت ملک بھر میں خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد، جنسی زیادتی، قتل، ہراسانی اور صنفی بنیاد پر تشدد کے بڑھتے واقعات کا جائزہ لینے کے لئے تمام صوبوں کے اعلیٰ پولیس حکام کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔
قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں کا خواتین اور بچیوں پر تشدد و زیادتی کے بڑھتے واقعات پر فوری اور مؤثر پولیس ایکشن کا مطالبہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔31اگست (اے پی پی):قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں (این سی ایس ڈبلیو ) کی چیئرپرسن نورین بانو لہڑی کی زیرِ صدارت ملک بھر میں خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد، جنسی زیادتی، قتل، ہراسانی اور صنفی بنیاد پر تشدد کے بڑھتے واقعات کا جائزہ لینے کے لئے تمام صوبوں کے اعلیٰ پولیس حکام کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ پیر کو جاری پریس ریلیز کے مطابق چیئرپرسن نورین بانو لہڑی نے حنا جاوید، آیت نور، اسما ءجتک اور سندھ میں حالیہ دلخراش واقعات کے متاثرین، بشمول کُلثوم محمد قاسم اور ایزل کے مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خواتین اور بچیوں کے خلاف بڑھتے جرائم ریاستی اداروں کے لئے فوری اور سنجیدہ اقدام کا تقاضا کرتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ خواتین اور بچیوں کا تحفظ ریاست کی ناقابلِ سمجھوتہ ذمہ داری ہے اور انصاف میں تاخیر کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔سندھ میں حالیہ واقعات بشمول ایک 10 سالہ سیلاب متاثرہ بچی کے ساتھ زیادتی کے واقعہ پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کمیشن نے ہدایت کی کہ متاثرین اور ان کے خاندانوں کو فوری تحفظ، قانونی معاونت اور نفسیاتی و طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور مقدمات کو مکمل شفافیت کے ساتھ منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ چیئرپرسن نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد اور زیادتی کے تمام مقدمات کی خصوصی نگرانی، تیز رفتار تفتیش اور مؤثر پراسیکیوشن یقینی بنائی جائے۔ GBV مقدمات کے تفتیشی افسران کو خصوصی تربیت دی جائے اور اہم تفتیش کے دوران انہیں غیر ضروری طور پر تبدیل نہ کیا جائے یا اضافی ذمہ داریوں میں نہ لگایا جائے۔
قومی کمیشن نے صنفی بنیاد پر تشدد (GBV) مقدمات کے لئے خصوصی عدالتوں کے قیام اور موجودہ خصوصی عدالتی نظام کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا تاکہ متاثرین کو بروقت انصاف فراہم کیا جا سکے۔کمیشن نے مدارس، سکولوں، کالجوں، جامعات و دیگر تعلیمی اداروں میں خواتین اور بچیوں کے خلاف ہراسانی اور تشدد کی روک تھام کے لئے مؤثر نگرانی اور آگاہی پروگرامز کی ہدایت کی۔ طلبہ خصوصاً لڑکوں اور نوجوان مردوں کی تربیت و کردار سازی پر زور دیا گیا تاکہ وہ خواتین کیلئے ہراسانی یا تشدد کا سبب بننے کے بجائے ان کے محافظ، معاون اور ذمہ دار شہری بنیں۔اجلاس میں پولیس، ڈاکٹرز، عدالتی افسران، پراسیکیوٹرز اور جیل عملے کی خصوصی صنفی حساسیت اور استعدادِ کار بڑھانے کی تربیت پر بھی زور دیا گیا۔
این سی ایس ڈبلیو نے غیر قانونی جرگوں کے خلاف سخت کارروائی اور ایسے غیر قانونی طریقہ کار کی روک تھام کا مطالبہ کیا جو خواتین کے بنیادی حقوق، قانونی تحفظ اور انصاف تک رسائی کو متاثر کرتے ہیں۔خواتین قیدیوں کے حوالے سے کمیشن نے ہدایت کی کہ جیلوں میں محنت اور ہنر مندی کے کام کرنے والی خواتین کو ان کی محنت کا مناسب معاوضہ دیا جائے اور انہیں مرد قیدیوں سے کم اجرت نہ دی جائے۔ خواتین قیدیوں کو تعلیم، فنی تربیت، ہنر مندی، مالیاتی آگاہی اور بحالی کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ رہائی کے بعد وہ باعزت، خودمختار اور معاشرے میں مؤثر طور پر دوبارہ شامل ہونے کے قابل ہوں۔
کمیشن نے فیصلہ کیا کہ GBV مقدمات کا کیس ٹو کیس ڈیٹا ماہانہ بنیادوں پر تمام انسپکٹر جنرلز پولیس کے ساتھ شیئر اور مانیٹر کیا جائے گا اور ہر صوبے سے مقدمات کی پیش رفت، تفتیشی رکاوٹوں، پراسیکیوشن، استعدادِ کار اور روک تھام کے اقدامات کی تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔قومی کمیشن کے شکایتی نظام (Complaint Management System) کو پولیس قیادت کے ساتھ مؤثر طور پر منسلک اور فعال بنانے کی ہدایت بھی کی گئی تاکہ خواتین اور بچیوں کی شکایات پر فوری کارروائی ممکن ہو۔ تمام آئی جیز پولیس کو محکمہ ہائے ترقیِ نسواں اور صوبائی کمیشن برائے وقارِ نسواں کے ساتھ براہِ راست اور مؤثر رابطہ کاری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔
چیئرپرسن قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں محترمہ نورین بانو لہڑی نے واضح کیا کہ حنا جاوید، آیت نور، اسما جتک، کُلسوم محمد قاسم، ایزل اور دیگر متاثرہ خواتین و بچیوں کے مقدمات محض اعداد و شمار نہیں بلکہ انسانی زندگیاں اور خاندانوں کے ناقابلِ تلافی دکھ ہیں۔انہوں نے کہا کہ غفلت، کمزور تفتیش، غیر ضروری تاخیر اور مجرموں کو قانون کی گرفت سے بچنے کی کوئی گنجائش نہیں اور قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کو مربوط، قابلِ پیمائش اور نتیجہ خیز اقدامات کے ذریعے خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کے بڑھتے واقعات کو روکنا ہوگا۔اجلاس میں ایس ایس پی انویسٹی گیشنز پنجاب خرم شہزاد، ڈی آئی جی کرائمز خیبر پختونخوا محمد حسین، ایس ایس پی قمر رضوی سندھ، اور ایڈیشنل آئی جی آپریشنز بلوچستان شہزاد اکبر سمیت وفاقی اداروں کے متعلقہ سینئر پولیس افسران نے شرکت کی۔








