لاہور۔12فروری (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے نجی میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیز کی جانب سے طلبا سے زائد فیس وصول کرنے کے خلاف دائر درخواست پر یونیورسٹی آف لاہور کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی مقرر کردہ سالانہ فیس سے زیادہ رقم لینے سے روک دیا ہے۔ عدالت نے پی ایم ڈی سی کو حکم دیا ہے کہ وہ دیگر نجی میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیز میں …
لاہور ہائیکورٹ نے یونیورسٹی آف لاہور کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی مقررہ حد سے زیادہ فیس لینے سے روک دیا

مزید خبریں
لاہور۔12فروری (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے نجی میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیز کی جانب سے طلبا سے زائد فیس وصول کرنے کے خلاف دائر درخواست پر یونیورسٹی آف لاہور کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی مقرر کردہ سالانہ فیس سے زیادہ رقم لینے سے روک دیا ہے۔ عدالت نے پی ایم ڈی سی کو حکم دیا ہے کہ وہ دیگر نجی میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیز میں بھی فیس سے متعلق جاری کردہ نوٹیفکیشن پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔
جسٹس خالد اسحاق نے شہریار کی درخواست پر جمعرات کوسماعت کی،اس دورانِ ایڈووکیٹ حافظ اسرار الحق نے موقف اختیار کیا کہ یونیورسٹی آف لاہور طلبا سے سالانہ23 لاکھ27 ہزار روپے فیس وصول کر رہی ہے جبکہ پی ایم ڈی سی نے سالانہ فیس کی حد 18 لاکھ روپے مقرر کر رکھی ہے۔ وکیل نے استدعا کی کہ مقررہ حد سے زائد فیس کی وصولی غیر قانونی قرار دے کر یونیورسٹی کو اس سے روکا جائے۔ عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد یونیورسٹی آف لاہور کو مقررہ فیس سے زائد وصولی سے روکنے کا حکم جاری کر دیا اور ریگولیٹری ادارے کو تمام نجی میڈیکل اداروں میں اس فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دے دیا ۔








