لاہور ہائیکورٹ کا سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے لیے متعلقہ اداروں کو قانونی اصلاحات اور تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم

لاہور۔13فروری (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت کے کرتے ہوئے درختوں کی کٹائی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو جامع پالیسی، قانونی اصلاحات اور تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخت کاٹنے کے جرائم میں سزائیں نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کے باعث یہ عمل نہیں …

لاہور۔13فروری (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت کے کرتے ہوئے درختوں کی کٹائی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو جامع پالیسی، قانونی اصلاحات اور تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخت کاٹنے کے جرائم میں سزائیں نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کے باعث یہ عمل نہیں رک رہا,عدالت نے ریمارکس دیے کہ جب تک ضمانتیں ہوتی رہیں گی، درختوں کی کٹائی نہیں رکے گی، ایسے جرائم کو ناقابلِ ضمانت ہونا چاہیے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ کے تدارک کیس میں ایک ہی نوعیت کی درخواستوں پر سماعت کی جس میں ماحولیاتی آلودگی اور سموگ کے تدارک کیلئے اقدامات نہ کرنے کی نشاندہی کی گئی ۔ جمعہ کے روز دوران سماعت متعلقہ محکموں کے اعلی حکام پیش ہوئے اور اپنی اپنی کارکردگی رپورٹ پیش کیں۔ اس دوران عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ جوڈیشل واٹر کمیشن کی سربراہی میں درختوں کے تحفظ سے متعلق اجلاس منعقد ہو چکا ہے۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت پر پیش ہو کر درختوں سے متعلق پالیسی اور تفصیلی رپورٹ جمع کرائیں۔

عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کو ہدایت کی کہ وہ جائزہ لیں کہ ایسے مقدمات میں ضمانتیں کیسے ہو رہی ہیں، جبکہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو قانون میں ضروری ترامیم سے متعلق تجاویز دینے کا بھی کہا گیا۔ اس دوران پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے وکیل کی عدم پیشی پر عدالت نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اگر مقرر وکیل پیش نہیں ہو سکتے تو ادارہ کسی اور نمائندے کو بھیجے، یہ رویہ قابل افسوس ہے۔ عدالت نے پی ایچ اے کو درختوں کے تحفظ اور ری پلانٹیشن سے متعلق پالیسی پیش کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور پی ایچ اے ماحولیاتی ماہرین اور کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کریں، جبکہ درختوں کی دوبارہ شجرکاری کے لیے درکار مشینری حکومت سے لی جائے۔ عدالت نے قرار دیا کہ درختوں کا معاملہ آنے والے وقت میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر جائے گا اور یہ اقدامات آئندہ نسلوں کے مفاد کے لیے ناگزیر ہیں۔ عدالت نے سماعت 16 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو مفصل رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی ۔