لیبیا نےمعاہدۂ پیرس کے تحت اپنا سٹریٹجک کلائمیٹ فریم ورک باضابطہ طور پر متعارف کرا دیا، جسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومتِ قومی اتحاد کی منظوری حاصل ہے۔
لیبیا کا معاہدۂ پیرس کے تحت سٹریٹجک کلائمیٹ فریم ورک متعارف،قومی اتحاد کی منظوری حاصل

مزید خبریں
طرابلس۔8جولائی (اے پی پی):لیبیا نےمعاہدۂ پیرس کے تحت اپنا سٹریٹجک کلائمیٹ فریم ورک باضابطہ طور پر متعارف کرا دیا، جسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومتِ قومی اتحاد کی منظوری حاصل ہے۔شنہوا کے مطابق اس فریم ورک میں 2026 تا 2035 کے لیے ملک کا پہلا قومی سطح پر متعین شراکتی منصوب ، 2045 تک کے لیے قومی موافقتی منصوبہ اور اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی کے لیے پہلی ابتدائی قومی رپورٹ شامل ہے۔دستخط اور توثیق کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیبیا کے وزیر ماحولیات ابراہیم العربی منیر نے کہا کہ نیا فریم ورک موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت اختیار کرنے کے اقدامات اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کی کوششوں کے درمیان متوازن حکمت عملی پر مبنی ہے۔
لیبیا میں یو این ڈی پی کی نمائندہ سوفی کیمخادزے نے کہا کہ اس فریم ورک کی منظوری سے موسمیاتی سرمایہ کاری کے حصول، بین الاقوامی مالی معاونت کو متحرک کرنے اور توانائی، ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت، مالیات، فضلہ انتظام اور مقامی طرز حکمرانی سمیت سات اہم شعبوں میں شراکت داری اور رابطے کو فروغ ملے گا۔لیبیا کے این ڈی سی میں قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے فروغ، توانائی کے موثر استعمال اور آبی و زمینی وسائل کے بہتر انتظام کو ترجیح دی گئی ہے، جبکہ این اے پی میں 2045 اور اس کے بعد تک پانی، خوراک اور بنیادی ڈھانچے پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے 14 ترجیحی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔







