مئی 2025 کے پاک بھارت تنازع، جنوبی ایشیا میں تزویراتی استحکام اور جوہری ڈیٹرنس کے مختلف پہلوؤں پر مبنی کتاب ’’معرکہ حق‘‘ کی تقریب رونمائی

ملینیم انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ انٹرپرینیورشپ (مائٹ) اور سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز سندھ (سی آئی ایس ایس ایس) کے زیر اہتمام جنوبی ایشیا میں بدلتے تزویراتی توازن، مئی 2025 کے پاک بھارت تنازع اور خطے میں دفاعی توازن کے مستقبل پر مبنی کتاب ’’معرکہ حق: ڈیٹرنس، اشتعال انگیزی اور جنوبی ایشیا میں تزویراتی پختگی‘‘ کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی جس میں عسکری قیادت، سفارت کاروں، ماہرین تعلیم، پالیسی …

اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):ملینیم انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ انٹرپرینیورشپ (مائٹ) اور سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز سندھ (سی آئی ایس ایس ایس) کے زیر اہتمام جنوبی ایشیا میں بدلتے تزویراتی توازن، مئی 2025 کے پاک بھارت تنازع اور خطے میں دفاعی توازن کے مستقبل پر مبنی کتاب ’’معرکہ حق: ڈیٹرنس، اشتعال انگیزی اور جنوبی ایشیا میں تزویراتی پختگی‘‘ کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی جس میں عسکری قیادت، سفارت کاروں، ماہرین تعلیم، پالیسی سازوں اور تزویراتی امور کے ماہرین نے شرکت کی۔

تقریب کی مشترکہ میزبانی مائٹ کی ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی اور سی آئی ایس ایس ایس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سفیر (ر) قاضی خلیل اللہ نے کی جبکہ سابق سینیٹر و وفاقی وزیر جاوید جبار مہمان خصوصی تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد احمد قدوائی نے کلیدی خطاب کیا۔کتاب کے مدیر ڈاکٹر ظفر خان ہیں جس میں سینئر عسکری قیادت،سفارت کاروں اور دانشوروں کی تحریریں شامل ہیں۔ کتاب میں پاکستان بھارت تعلقات کی تاریخ، مئی 2025 کا بحران، جوہری ڈیٹرنس، تزویراتی حکمت عملیوں، حالیہ فوجی محاذ آرائیوں سے حاصل ہونے والے اسباق اور علاقائی امن کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لیا گیا ہے۔

 

 

کلیدی خطاب کرتے ہوئے قومی کمانڈ اتھارٹی کے مشیر برائے ترقی لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد احمد قدوائی نے کہا کہ بھارت کے تزویراتی عزائم اس کی سیاسی اور عسکری صلاحیتوں سے کہیں زیادہ ہیں جبکہ پاکستان کی جوہری صلاحیت اور مکمل دائرہ کار پر مبنی ڈیٹرنس نے دونوں ممالک کے درمیان روایتی عسکری عدم توازن کے تاثر کو ختم کیا ہے۔انہوں نے مئی 2025 کے بحران کے تناظر میں پاکستان کی روایتی جوابی حکمت عملی پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسے ’’کوئی جواب، اس سے بڑھ کر جواب‘‘ کی حکمت عملی سے مزید مؤثر سطح تک ارتقا دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قابل اعتماد دفاعی صلاحیت اور مخالف کو نقصان پہنچانے کی استطاعت مستقبل میں کشیدگی بڑھنے سے روکنے کے لیے ناگزیر ہے۔

اس موقع پر سفیر قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ مئی 2025 کا معرکہ حق پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے، جس نے قومی استقامت، اتحاد اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر جدید ٹیکنالوجی میں پاکستان کی سرمایہ کاری چار روزہ تنازع کے دوران قوت میں اضافے کا باعث بنی، جبکہ مکمل دائرہ کار پر مبنی ڈیٹرنس نے مزید کشیدگی کو روکنے میں کردار ادا کیا۔ڈاکٹر ظفر خان نے کتاب کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد جنوبی ایشیا میں دباؤ ڈالنے کی حکمت عملیوں، ڈیٹرنس اور بحرانوں کے دوران رویوں کے بدلتے رجحانات کو دستاویزی شکل دینا ہے۔مائٹ کی ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی نے کتاب کی تیاری میں مدیر اور معاون مصنفین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اسے محققین، پالیسی سازوں، ماہرین اور بین الاقوامی تعلقات کے طلبہ کے لیے اہم علمی اثاثہ قرار دیا۔

سابق سفیر مصطفیٰ کمال کاظی نے کہا کہ کتاب میں پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کو درپیش بھارتی چیلنجز کا جائزہ لیا گیا ہے۔یونیورسٹی آف میرپورخاص کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد میمن نے کشمیر اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کو جنوبی ایشیا میں جوہری کشیدگی کے دو بڑے ممکنہ محرکات قرار دیا۔ڈی ایچ اے صفہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احمد سعید منہاس نے جنوبی ایشیا میں دفاعی توازن کی نازک صورتحال اور فروری 2019 کے بالاکوٹ بحران اور مئی 2025 کے تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے قابل اعتماد ڈیٹرنس برقرار رکھنے کی اہمیت اجاگر کی۔

جامعہ سندھ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری نے کتاب کو علاقائی سلامتی اور تزویراتی استحکام کے حوالے سے علمی مباحث میں اہم اضافہ قرار دیا اور سارک کی غیر فعالیت اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔مہمان خصوصی جاوید جبار نے کہا کہ مئی 2025 کے تنازع کے دوران پاکستان کی قیادت اور مسلح افواج کی تیاری اور محتاط حکمت عملی نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کتاب کو بڑی عالمی زبانوں میں ترجمہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اسے بین الاقوامی سطح پر وسیع قارئین تک پہنچایا جا سکے۔

کتاب میں بھارت کی تزویراتی سوچ، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال، مبینہ فالس فلیگ آپریشنز، ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی، انسانی حقوق کے مسائل، آبی سلامتی اور جوہری ڈیٹرنس سے جڑے بڑھتے خطرات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔تقریب میں ماہرین تعلیم، سابق سینئر فوجی افسران، غیر ملکی سفارت کاروں، پالیسی تجزیہ کاروں، طلبہ اور میڈیا نمائندوں سمیت 200 سے زائد افراد نے شرکت کی۔

 

مزید خبریں