اسلام آباد ۔ 8 مئی (اے پی پی) وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا ہے کہ سٹیٹ بنک نے مائیکرو فنانس بنکوں کو ری فنانس کرنے کے لئے 9 ارب روپے مختص کئے ہیں' یہ ادارے رضاکارانہ طور پر کام کر رہے ہیں' اگر ان پر زیادہ بوجھ ڈالا گیا تو ان کے لئے مسائل پیدا ہوں گے۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں ملک محمد احسان ٹوانہ کے …
مائیکرو فنانس بنکوں پر زیادہ بوجھ ڈالا گیا تو ان کے لئے مسائل پیدا ہوں گے وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 8 مئی (اے پی پی) وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا ہے کہ سٹیٹ بنک نے مائیکرو فنانس بنکوں کو ری فنانس کرنے کے لئے 9 ارب روپے مختص کئے ہیں’ یہ ادارے رضاکارانہ طور پر کام کر رہے ہیں’ اگر ان پر زیادہ بوجھ ڈالا گیا تو ان کے لئے مسائل پیدا ہوں گے۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں ملک محمد احسان ٹوانہ کے این جی اوز اور مائیکرو فنانس بنکوں کی جانب سے دیہی امدادی پروگرام کے تحت غریب کاشتکاروں کو دیئے گئے قرضوں پر بلند شرح مارک اپ وصول کئے جانے سے متعلق توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت حماد اظہر نے کہا کہ مائیکرو فنانس بنک کا لائسنس سٹیٹ بنک جاری کرتا ہے تاہم ان بنکوں کے لینڈنگ ریٹس میں سٹیٹ بنک گزشتہ تیس سالوں سے مداخلت نہیں کرتا۔ ان بنکوں کے فکسڈ اخراجات زیادہ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے مارک اپ زیادہ چارج کیا جاتا ہے۔ پھر بھی ہمیں تفصیلات سے آگاہ کیا جائے ہم اس کی تحقیقات کرائیں گے۔ حماد اظہر نے بتایا کہ یہ رضاکارانہ ادارے ہیں۔ سٹیٹ بنک کی ری فنانسنگ کی سکیم بہترین ہے۔ مائیکرو بنکوں کو ری فنانس کرنے کے لئے سٹیٹ بنک نے 9ارب روپے مختص کئے ہیں۔ حنا ربانی کھر نے کہا کہ سٹیٹ بنک کو اس کو ریگولیٹ اور اس کی مانیٹرنگ کرنی چاہیے۔ 20 فیصد قرضے مکمل طور پر سود سے پاک ہیں۔ ورلڈ بنک سے ہماری سٹیٹ بنک کی ری فنانس کی سکیم شروع ہونے والی ہے۔








