باکو۔12نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا کہ عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلیاں ریکارڈ تعداد میں لوگوں کو بے گھر کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہیں اور نقل مکانی کے پہلے سے ہی تشویش ناک مسئلے کو مزید خراب کر رہی ہے۔ جرمن نشریاتی ادراے ڈی ڈبلیو کے مطابق آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں بین الاقوامی ماحولیاتی کانفرنس کے دوران اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی (یو این ایچ …
ماحولیاتی تبدیلیاں عالمی سطح پر نقل مکانی میں اضافہ کر رہی ہیں، یواین ایچ سی آر

مزید خبریں
باکو۔12نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا کہ عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلیاں ریکارڈ تعداد میں لوگوں کو بے گھر کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہیں اور نقل مکانی کے پہلے سے ہی تشویش ناک مسئلے کو مزید خراب کر رہی ہے۔ جرمن نشریاتی ادراے ڈی ڈبلیو کے مطابق آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں بین الاقوامی ماحولیاتی کانفرنس کے دوران اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی (یو این ایچ سی آر) نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ اور انتہائی موسمی صورتحال نقل مکانی کی تعداد اور دیگر حالات کو کس طرح متاثر کر رہے ہیں ۔ ادارے نے ان خطرات کو کم کرنے کے لیے زیادہ اور بہتر سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا ہے۔
یو این ایچ سی آر نے تازہ رپورٹ میں بتایا کہ کس طرح سوڈان، صومالیہ اور میانمار جیسی جگہوں پر موسمیاتی صورتحال تنازعات کے ساتھ مل کر پہلے سے خطرے میں گھرے لوگوں کو مزید سنگین حالات میں دھکیل رہی ہے۔ یو این ایچ سی آر کے سربراہ فلپو گرانڈی نے کہا کہ خشک سالی، سیلاب، جان لیوا گرمی اور دیگر انتہائی موسمی واقعات خطرناک تعداد کے ساتھ ہنگامی صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور لوگ اس بحران سے سب سے زیادہ متاثرین میں ہیں ۔ انہوں نے اعداد و شمار کے حوالے سے کہا کہ بے گھر ہونے والے 75 فیصد لوگ ایسے ممالک میں رہتے ہیں جہاں آب و ہوا سے متعلق خطرات کا سامنا ہے۔ جیسے جیسے ماحولیاتی تبدیلیوں کی رفتار میں اضافہ ہو گا یہ اعداد و شمار بڑھتے ہی جائیں گے۔ یو این ایچ سی آر کے جون کے اعداد و شمار سےظاہر ہوتا ہے کہ ریکارڈ 120 ملین افراد پہلے ہی جنگ، تشدد اور ظلم و ستم کی وجہ سے بے گھر ہو کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
یو این ایچ سی آر کے موسمیاتی کارروائی کے خصوصی مشیر اینڈریو ہارپر نے بتایاکہ عالمی سطح پر تنازعات کی وجہ سے بے گھر ہونے والے لوگوں کی تعداد گزشتہ 10 سالوں میں دگنی ہو گئی ہے۔ یو این ایچ سی آر نےنقل مکانی کی نگرانی کے مرکز کے حالیہ اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ موسمیاتی آفات نے صرف گزشتہ دہائی کے دوران ان کے ممالک کے اندر تقریباً 220 ملین افراد کو بے گھر کر دیا ہے جو تقریباً 60 ہزار روزانہ بے گھر ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بے گھر ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے نقل مکانی کرنے والے اور ان کی میزبانی کرنے والی کمیونٹیز کی مدد کے لیے درکار فنڈز کی شدید کمی پر افسوس کا اظہار کیا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ زیادہ تر پناہ گزینوں کے آباد ہونے والے علاقے کم آمدنی والے ممالک میں پائے جاتے ہیں، اکثر صحرا میں، ایسے علاقوں میں جو سیلاب کا شکار ہیں، ایسی جگہوں پر جہاں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے نمٹنے کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ نہ صرف غیر آرام دہ اور وہاں رہنے والے لوگوں کے لیے صحت کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے بلکہ فصلوں کے خراب ہونے اور مویشیوں کے مرنے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آب و ہوا میں تغیر کی انتہائی حد سے دوچار ممالک جیسے نائجر، برکینا فاسو، سوڈان، افغانستان میں قابل کاشت اراضی کے بڑھتے ہوئے نقصان کو دیکھ رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ آبادی میں بڑے پیمانے پر اضافہ بھی ہوا ہے۔
یو این ایچ سی آر نے کہا کہ یہ صورت حال مزید بدتر ہونے کی طرف گامزن ہے۔ اقوام متحدہ کی تنظیم کے مطابق دنیا میں ایسے ممالک کی تعداد جو انتہائی موسمیاتی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں 2040 تک تین سے بڑھ کر 65 ہو جائے گی۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ 2050 تک زیادہ تر پناہ گزینوں کی بستیوں اور کیمپوں کو آج کے مقابلے میں دو گنا خطرناک گرمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یو این ایچ سی آر نے اجلاس میں شریک فیصلہ سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لئے زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی مالی امداد پناہ گزینوں اور میزبان برادریوں تک پہنچے، جنہیں اس کی اشد ضرورت ہے۔








