پاکستان ریلوے نے مارچ 2026 میں ہونے والے دو بڑے ٹرین حادثات کی انکوائری رپورٹ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے میں پیش کر دی ہے۔
مارچ میں ہونے والے ریلوے حادثات کی انکوائری مکمل: 9 ریلوے ملازمین ذمہ دار قرار، 135 میں سے 35 فیصد حادثات ان مینڈ کراسنگز اور 34 ٹریک کی خرابی کے باعث ہوئے، ریلوے حکام

مزید خبریں
اسلام آباد۔6جولائی (اے پی پی):پاکستان ریلوے نے مارچ 2026 میں ہونے والے دو بڑے ٹرین حادثات کی انکوائری رپورٹ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے میں پیش کر دی ہے۔ رپورٹ میں دونوں حادثات کی وجوہات انسانی غفلت اور تکنیکی خرابیوں کو قرار دیتے ہوئے مجموعی طور پر 9 ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں ایک سال کے دوران مجموعی طور پر 135 ٹرین حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 34 حادثات ٹریک کی خرابی کی وجہ سے پیش آئے جبکہ کل حادثات کا 35 فیصد حصہ ان مینڈ (بغیر عملے کے) ریلوے کراسنگز پر ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے۔
رپورٹ کے مطابق مہراب پور کے مقام پر شالیمار ایکسپریس اور مال گاڑی میں تصادم ڈرائیور کی سنگین غفلت اور سگنل اوور شوٹ کرنے کے باعث ہوا جس میں ایک ملازم جاں بحق اور بوگیاں الٹ گئیں۔ ریلوے حکام نے اس حادثے میں ڈرائیور فیاض محمد، اسسٹنٹ ڈرائیور آصف سعید، سینئر ٹرین ایگزامنرز آصف حسین، ولی اللہ خان اور ہیڈ ٹرین ایگزامنر عمران نثار کو براہِ راست، جبکہ سٹیشن ماسٹر اسد اللہ کو بالواسطہ ذمہ دار نامزد کیا ہے۔ دوسری جانب لودھراں-بہاولپور سیکشن پر تیزگام ایکسپریس کو پیش آنے والا دوسرا بڑا حادثہ تکنیکی مانیٹرنگ میں غفلت کا نتیجہ تھا، جہاں ڈائننگ کار کی فرنٹ ٹرالی میں نقص کے باعث ٹرین کی 8 کوچز پٹری سے اتریں اور متعدد مسافر زخمی ہوئے۔ اس فٹنس غفلت پر ٹی ایکس آر ثاقب غفور اور منہاس انور کو براہِ راست، جبکہ ہیڈ ٹی ایکس آر عمران شریف کو بالواسطہ ذمہ دار قرار دے کر ایکشن شروع کر دیا گیا ہے۔
قائمہ کمیٹی کو بریفنگ کے دوران چیئرمین ریلوے مظہر علی شاہ نے بتایا کہ ملک میں سالانہ 35 سے 38 ہزار ٹرینوں کی آمدورفت ہوتی ہے جس سے حادثات کی شرح محض 0.02 فیصد بنتی ہے، اور ریلوے انتظامیہ محدود وسائل کے باوجود اپنے عملے کی مدد سے انجنوں، بوگیوں اور ٹریکس کی بحالی کا کام انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے کمیٹی کو فراہم کردہ سالانہ اعداد و شمار کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ ٹریک کی خرابی کے 34 اور ان مینڈ کراسنگ کے 35 فیصد حادثات کے علاوہ، ریلوے سٹاف کی غفلت کے باعث 32 حادثات، رولنگ اسٹاک کی خرابیوں کی وجہ سے 30، تخریب کاری کے نتیجے میں 10، جبکہ باقی حادثات قدرتی آفات و دیگر وجوہات کے باعث پیش آئے۔ ریلوے انتظامیہ نے قائمہ کمیٹی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان تمام حادثات پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔








