ماہرین زراعت کی فصلوں سے گاجر بوٹی کے فوری خاتمہ کی سفارش

فیصل آباد۔ 19 جولائی (اے پی پی):ریسرچ انفارمیشن یونٹ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے ماہرین زراعت نے کہا کہ گاجر بوٹی دنیاکی10بد ترین جڑی بوٹیوں میں سب سے تیزی سے پرورش پانے والی جڑی بوٹی ہے جبکہ پنجاب میں سب سے خطرناک بوٹی کے طور پر سامنے آنیوالی انسانی، حیوانی،فصلات کیلئے نقصان دہ مذکورہ جڑی بوٹی کاخاتمہ اشد ضروری ہے۔انہوں نے بتایاکہ گاجر بوٹی جسے پارتھینیم بھی کہاجاتاہے …

فیصل آباد۔ 19 جولائی (اے پی پی):ریسرچ انفارمیشن یونٹ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے ماہرین زراعت نے کہا کہ گاجر بوٹی دنیاکی10بد ترین جڑی بوٹیوں میں سب سے تیزی سے پرورش پانے والی جڑی بوٹی ہے جبکہ پنجاب میں سب سے خطرناک بوٹی کے طور پر سامنے آنیوالی انسانی، حیوانی،فصلات کیلئے نقصان دہ مذکورہ جڑی بوٹی کاخاتمہ اشد ضروری ہے۔انہوں نے بتایاکہ گاجر بوٹی جسے پارتھینیم بھی کہاجاتاہے ماحول کیلئے بھی انتہائی خطرناک ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ جڑی بوٹی گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں میکسیکو، آسٹریلیا، مشرقی افریقہ سے پھیلتی ہوئی ایشیا اور پاکستان بالخصو ص پنجاب پہنچی ہے۔

انہوں نے بتایاکہ اس جڑی بوٹی نے انڈیا، چین، تائیوان، ویتنام، ایتھوپیا، کینیا، جنوبی افریقہ و دیگرممالک کو بھی متاثر کیاہے۔ انہوں نے بتایاکہ کچھ عرصہ قبل تک یہ جڑی بوٹی صرف ناکارہ جگہوں پر ہی دیکھنے میں آتی تھی مگر زرعی ماہرین کے حالیہ سروے کے مطابق اب یہ جڑی بوٹی پانی کے کھالوں اور راستوں و ناکارہ زمینوں سے کھیتوں کی جانب تیزی سے بڑھ اور پھیل رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ وسطی پنجاب کے کھیت اس سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اور یہ دھان، مکئی، کماد کی فصلات کو متاثر کررہی ہے۔انہوں نے کاشتکاروں کو ہدایت کی کہ وہ گاجر بوٹی کے خاتمہ کیلئے فوری طورپرماہرین زراعت سے مشاورت اور مناسب زہروں کا سپرے یقینی بنائیں۔