اسلام آباد ۔ 4 جولائی (اے پی پی) ملک میں گزشتہ ماہ جون کے دوران کنزیومر پرائس انڈیکس پر مبنی افراط زر کی شرح 5.21 فیصد ریکارڈ کی گئی، یہ اکتوبر 2014ءکے بعد سے اب تک کی بلند ترین شرح ہے۔ سی پی آئی پر مبنی افراط زر کی شرح میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 0.57 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ہول سیل پرائس انڈیکس میں 1.48 فیصد اور قیمتوں …
ماہ جون کے دوران افراط زر کی شرح 5.21 فیصد ریکارڈ کی گئی، پاکستان بیورو برائے شماریات
اسلام آباد ۔ 4 جولائی (اے پی پی) ملک میں گزشتہ ماہ جون کے دوران کنزیومر پرائس انڈیکس پر مبنی افراط زر کی شرح 5.21 فیصد ریکارڈ کی گئی، یہ اکتوبر 2014ءکے بعد سے اب تک کی بلند ترین شرح ہے۔ سی پی آئی پر مبنی افراط زر کی شرح میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 0.57 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ہول سیل پرائس انڈیکس میں 1.48 فیصد اور قیمتوں کے حساس اشاریہ پر مبنی افراط زر کی شرح میں 1.57 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستان بیورو برائے شماریات کے ڈائریکٹر پرائسز عتیق الر حمٰن نے ممبر نیشنل اکاﺅنٹس کے ہمراہ بدھ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مالی سال 2017-18 کے دوران پچھلے سال کے مقابلہ میں افراط زر کی اوسط شرح 3.92 فیصد ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں غیر غذائی اور نان انرجی اشیاءکےلئے سی پی آئی پر مبنی کور انفلیشن 7.1 فیصد رہی، جون 2018 میں کور انفلیشن مئی 2018 کے مقابلہ میں 5.4 فیصد جبکہ جون 2017 کے مقابلہ میں 4.2 فیصد رہی۔ جن اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ان میں مٹی کا تیل 34.37 فیصد، بس کرایہ 33.58 فیصد، ڈیزل 29.37 فیصد، ریل کرایہ 28.57 فیصد، ادرک 27.57 فیصد، پٹرول 26.32 فیصد، چکن 26.2 فیصد، ٹماٹر 16.77 فیصد اور پیاز 14.17 فیصد اضافے کے ساتھ نمایاں رہے۔ اسی طرح جن اشیاءکی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ان میں تھوم 36.92 فیصد، دال ماش 26.57 فیصد، آلو 25.61 فیصد، دال مسور 13.68 فیصد، دال چنا 12.58 فیصد، دال مونگ 12.12 فیصد، چنا 10.03 فیصد، چینی 6.35 فیصد اور انڈے 1.82 فیصد کمی کے ساتھ نمایاں رہے۔









