لاہور۔2دسمبر (اے پی پی):اسلامی تعاون تنظیم کے وزراء خارجہ کے اجلاس میں کشمیر پر متفقہ قرار داد پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے خط اور رابطوں کے نتیجہ میں اسلامک فوبیا اور توہین ناموس رسالتؐ ، توہین مذہب پر اقوام متحدہ سے قانون سازی کا مطالبہ ہمارے لیے قابل فخر ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پاکستانی قوم ہی نہیں امت مسلمہ …
متحدہ عرب امارات کے ویزوں کا معاملہ حل ہو رہا ہے،حافظ طاہر محمود اشرفی

مزید خبریں
لاہور۔2دسمبر (اے پی پی):اسلامی تعاون تنظیم کے وزراء خارجہ کے اجلاس میں کشمیر پر متفقہ قرار داد پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے خط اور رابطوں کے نتیجہ میں اسلامک فوبیا اور توہین ناموس رسالتؐ ، توہین مذہب پر اقوام متحدہ سے قانون سازی کا مطالبہ ہمارے لیے قابل فخر ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پاکستانی قوم ہی نہیں امت مسلمہ کی ترجمانی کی ہے۔ گذشتہ دس سالوں سے بہتر عرب اسلامی ممالک سے ہمارے تعلقات ہیں ، بعض لوگ اسرائیل اور فلسطین کے مسئلہ پر بھی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ ہم کشمیر اور فلسطین کے مسئلہ کو امت مسلمہ کا اجتماعی مسئلہ سمجھتے ہیں اور فلسطینی ریاست کے قیام اور کشمیر کے مسئلہ کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہی قابل قبول ہو سکتا ہے۔ علماء اسلام کا متفقہ فتویٰ ہے کہ پولیو کے قطرے پلانا والدین کی ذمہ داری ہے ، قطرے نہ پلانے سے اگر بچہ اپاہج ہوا تو اللہ کے نزدیک ماں باپ گناہ گار ہوں گے۔ متحدہ عرب امارات کے ویزوں کا معاملہ حل ہو رہا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ نے اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس میں پاکستان کے کشمیر کے موقف کی مکمل تائید و حمایت کی ہے۔ توہین ناموس رسالتؐ کا قانون متفقہ ہے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات چیئرمین پاکستان علماءکونسل و نمائندہ خصوصی وزیر اعظم پاکستان برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان سمیت پاکستان دشمن قوتوں کی خواہش ہے کہ پاکستان کے اسلامی عرب ممالک سے تعلقات خراب ہوں ، بعض لوگ ذرائع ابلاغ پر بے بنیاد افواہیں پھیلاتے ہیں جو کہہ رہے تھے کہ کشمیر کا مسئلہ اسلامی تعاون تنظیم میں ذکر نہیں ہو گا۔ ان پر لازم ہے کہ وہ قوم کو موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کی بہترین کامیابی کا بھی بتائیں۔ آج افغانستان ، کشمیر ، اسلامک فوبیا ، توہین ناموس رسالتؐ کے مسئلہ پر قانون سازی پر پاکستان کے موقف کی پذیرائی ہو رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مدارس و مساجد بھی کرونا کے معاملہ پر احتیاطی تدابیر پر عمل کر رہے ہیں اور اس سلسلہ میں رابطے جاری ہیں اور اجلاس ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسیحی برادری کی قیادت نے کرسمس تقریبات میں مکمل احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گذشتہ دور حکومت میں تین دن مسجد اقصیٰ بند رہی کسی نے مذمت تک نہیں کی۔آج ان کو فلسطین یاد آ رہا ہے تو یہ بھی عمران خان کی محنت کا نتیجہ ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں حافظ محمد طاہر محمود اشفی نے کہا کہ آئین کو نہ تسلیم کرنے والا کوئی بھی کسی اہم منصب پر نہیں ہے۔ عقیدہ ختم نبوت و ناموس رسالت کے چوکیدار ہیں۔ محمد عربیؐ کی ناموس وعزت و ختم نبوت پر سب کچھ قربان ہے۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پولیو کے قطروں میں کوئی غیر شرعی اجزاءنہیں ، علماءاسلام کا متفقہ فتویٰ ہے کہ اگر ماں باپ نے بچے کو پولیو کے قطرے نہ پلائے او روہ اپاہج ہو گیا تو ماں باپ گناہ گار ہوں گے۔








