اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے متروکہ وقف املاک کی پنجاب محکمہ تعلیم کو الاٹمنٹ کا تنازعہ حکومتوں کے درمیانی تنازعے کے طور پر قرار دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ نئے فیصلے کے لیے لاہور ہائیکورٹ کو ریمانڈ بیک کر دیا ہے۔جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے منگل کو کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ متروکہ …
متروکہ وقف املاک اور محکمہ تعلیم الاٹمنٹ کیس، وفاقی آئینی عدالت نے معاملہ لاہور ہائیکورٹ کو واپس کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے متروکہ وقف املاک کی پنجاب محکمہ تعلیم کو الاٹمنٹ کا تنازعہ حکومتوں کے درمیانی تنازعے کے طور پر قرار دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ نئے فیصلے کے لیے لاہور ہائیکورٹ کو ریمانڈ بیک کر دیا ہے۔جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے منگل کو کیس کی سماعت کی۔
عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ متروکہ وقف املاک کی اراضی محکمہ تعلیم کو الاٹ کرنا ’’دو حکومتوں کے تنازعے‘‘ کے زمرے میں نہیں آتا، اس لیے وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار کا معاملہ نہیں بنتا۔سماعت کے دوران جسٹس حسن رضوی نے متعدد اہم سوالات اٹھائے جن میں کہا گیا کہ متروکہ وقف پراپرٹی کو محکمہ تعلیم کو الاٹ کرنا دو حکومتوں کا جھگڑا تو نہیں ہے۔
ہندوئوں کی ارتھی جلانے کی مخصوص اراضی محکمہ تعلیم کو کیسے الاٹ کر دی گئی؟1989ء میں الاٹ کی گئی زمین پر اب یقینی طور پر تعمیرات ہو چکی ہوں گی، اس صورتحال کو کیسے دیکھا جائے؟متروکہ املاک نے اس الاٹمنٹ پر خود کیا کارروائی کی؟ادارہ نے اپیل سینٹرل گورنمنٹ کے نام سے کیوں دائر کی؟ یہ تو وفاق اور صوبے کا تنازعہ نہیں ہے۔
عدالت کے استفسار پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے موقف اختیار کیا کہ انہیں صوبائی حکومت سے ہدایات درکار ہیں، لہٰذا مہلت دی جائے۔بعد ازاں عدالت نے تمام نکات سننے کے بعد قرار دیا کہ معاملہ بنیادی طور پر فریقین کے مابین قانونی اور ملکیتی نوعیت کا ہے نہ کہ وفاق اور صوبوں کے باہمی تنازعے کا۔ اس بنیاد پر یہ کیس آئینی عدالت کے روبرو زیر سماعت رکھنا قانونی طور پر درست نہیں۔
عدالت نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کیس کو نئے سرے سے سماعت کے لیے ہائیکورٹ کو واپس بھیجا جا رہا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ تمام پہلوئوں کا دوبارہ جائزہ لے کر فیصلہ کرے۔








