سیالكوٹ۔ 05 نومبر (اے پی پی):اسسٹنٹ ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن و پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول محکمہ زراعت سمبڑیال صبا تحسین نے کاشتکاروں کو گندم میں سرسوں و کینولہ کی کاشت اور کھادوں کے متناسب استعمال کی ہدایت کی ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ گندم میں سرسوں و کینولہ کی کاشت اور کھادوں کے متناسب استعمال سے سست تیلے کا تدارک یقینی بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ …
محكمہ زراعت سمبڑیال كی کاشتکاروں کو گندم میں سرسوں و کینولہ کی کاشت ، کھادوں کے متناسب استعمال کی ہدایت

مزید خبریں
سیالكوٹ۔ 05 نومبر (اے پی پی):اسسٹنٹ ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن و پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول محکمہ زراعت سمبڑیال صبا تحسین نے کاشتکاروں کو گندم میں سرسوں و کینولہ کی کاشت اور کھادوں کے متناسب استعمال کی ہدایت کی ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ گندم میں سرسوں و کینولہ کی کاشت اور کھادوں کے متناسب استعمال سے سست تیلے کا تدارک یقینی بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گندم کی فصل پر سست تیلے کے حملہ کا خدشہ رہتا ہے لہذا اس کے پیشگی تدارک کےلئے بروقت اقدامات کئے جائیں نیزگندم کی فصل پر کیڑے کا تدارک اس لئے مشکل ہے کہ گندم پر کیڑے کے خلاف زہر کے سپرے کی سفارش نہیں کی جاتی کیونکہ اس کے مضر اثرات ہوتے ہیں جن میں ماحول کا آلودہ ہونا،صحت کے مسائل اور مفید کیڑوں کا ختم ہونا شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ کھیتوں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے فائدہ مند کیڑے سست تیلے کوکھا کر ختم کر دیتے ہیں لیکن اس میں فائدہ مند کیڑوں کے دیر سے پیدا ہونے کی وجہ سے سست تیلے سے فصل کو کافی نقصان ہو جاتا ہے۔انہوں نے بتایاکہ اڈاپٹو فارمز پر کئی سال تجربات کرنے کے بعد سست تیلے کو کنٹرول کرنے کی بہت ہی سادہ اور قابل عمل حکمت عملی تیار کی گئی ہے جس پر کوئی خرچ نہیں آتا اور اس طریقہ میں گندم میں 100فٹ کے فاصلہ پرسرسوں و کنولہ کی دو لائنیں کاشت کر کے سست تیلے کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سرسوں وکینولہ کے پودوں پر گندم کے پودوں سے پہلے سست تیلہ حملہ آور ہوتا ہے اس طرح فائدہ مند کیڑے بھی اس پر پہلے پیدا ہوتے ہیں جس وقت گندم پر سست تیلے کا حملہ شروع ہوتا ہے اس وقت تک فائدہ مند کیڑوں کی تعدادکنولہ کے پودوں پر بہت زیادہ ہو جاتی ہے یہ فورا گندم کی فصل پر منتقل ہو جاتے ہیں اور چند ہی دنوں میں گندم کے سست تیلے کو کھا کر کنٹرول کر لیتے ہیں۔
انہوں نے بتایاکہ تجربات کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ جس فصل پر صرف نائٹروجن کھاد بحساب 69کلوگرام فی ایکڑ استعمال کی گئی تھی اس پر تیلے کا حملہ اس فصل کی نسبت زیادہ تھا جس پر کھادوں کا متناسب استعمال این پی کے 69-46-25 کلوگرام فی ایکڑ کے حساب سے کیا گیا تھا لہذا ان تجربات کے مطابق سست تیلے کے تدارک کےلئے کھادوں کے متناسب استعمال کی ہدایت کی جاتی ہے۔








