اسلام آباد۔19دسمبر (اے پی پی):پاکستان کمشنر برائے سندھ طاس کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق ایک نمایاں عرصے کے اتار چڑھاؤ کے بعد چناب دریا (مین اسٹریم) کا بہاؤ اب مستحکم ہو چکا ہے،محکمہ آبپاشی حکومت پنجاب پاکستان کی جانب سے مرالہ کے مقام پر جمو اور مناور تاوی کے علاوہ دریائے چناب کے بہاؤ کی سرکاری نگرانی جاری ہے ۔جمعہ کو وزارت آبی وسائل کی جانب سے جاری …
محکمہ آبپاشی پنجاب کی جانب سے مرالہ کے مقام پر دریائے چناب کے بہاؤ کی نگرانی

مزید خبریں
اسلام آباد۔19دسمبر (اے پی پی):پاکستان کمشنر برائے سندھ طاس کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق ایک نمایاں عرصے کے اتار چڑھاؤ کے بعد چناب دریا (مین اسٹریم) کا بہاؤ اب مستحکم ہو چکا ہے،محکمہ آبپاشی حکومت پنجاب پاکستان کی جانب سے مرالہ کے مقام پر جمو اور مناور تاوی کے علاوہ دریائے چناب کے بہاؤ کی سرکاری نگرانی جاری ہے ۔جمعہ کو وزارت آبی وسائل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دسمبر 2025 کے پہلے نصف کے ہائیڈرولوجیکل ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک غیر معمولی پانی کے بہاؤ میں کمی دیکھی گئی جو 10 سے 16 دسمبر 2025 تک برقرار رہی۔دریا کے بہاؤ میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی جس میں کم ترین بہاؤ 870 کیوسک ریکارڈ کیا گیا جو ان تاریخوں کے لیے گزشتہ دس سالہ کم از کم حد 4,018 سے 4,406 کیوسک سے کم تھا۔
مرالہ کے مقام پر اس غیر معمولی کمی کی وجوہات جانچنے کے لیے 8 دسمبر 2025 کی سیٹلائٹ تصاویر میں بگلیہار ریزروائر کے سطحی رقبے میں نمایاں کمی جبکہ 13 دسمبر 2025 کی تصاویر میں اضافہ دیکھا گیاجس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت بگلیہار ریزروائر کو خالی کرنے کے بعد دوبارہ بھر رہا ہے حالانکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں پر قائم رن آف ریور منصوبوں کے ذخائر کے ڈیڈ اسٹوریج کو خالی نہیں کر سکتا۔اس صورتحال پر پاکستان کے کمشنر برائے سندھ طاس نے بھارتی کمشنر سے رابطہ کر کے سندھ طاس معاہدے کے فریم ورک کے تحت دریائے چناب کے بہاؤ میں غیر معمولی کمی سے متعلق تفصیلات اور ڈیٹا طلب کیا ہے۔17 دسمبر 2025 سے دریا کے بہاؤ میں بہتری آنا شروع ہوئی اور صبح 7 بجے بہاؤ 6,399 کیوسک تک پہنچ گیا جو وسطِ ماہ کی کمی کے بعد پہلی بار تاریخی دس سالہ رینج میں موثر طریقہ سے داخل ہو رہا ہے۔
محکمہ آبپاشی پنجاب کے اعداد وشمار کے مطابق 19 دسمبر 2025 تک دریا کا بہاؤ فی الحال زیادہ سے زیادہ سے کم از کم بہاؤ کی آخری 10 سال کی حد کے اندر ہے۔مثال کے طور پر 19 دسمبر کو ریکارڈ کیے گئے حالیہ بہاؤ 4,505 کیوسک اور 6,494 کیوسک رہے جو اس وقت کے لیے تاریخی توقعات کے مطابق یا ان سے زیادہ ہیں۔ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ اتار چڑھاؤ کے پیشِ نظر پانی کے انتظامی اقدامات کو ہم آہنگ رکھنے کے لیے مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے گی۔
واضح کیا گیا ہے کہ دفترِ پاکستان کمشنر برائے سندھ طاس کے علاوہ کسی بھی دوسرے ذریعے سے فراہم کی جانے والی معلومات کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔مرالہ کے مقام پر دریائے چناب کے بہاؤ کی سرکاری نگرانی حکومتِ پنجاب، پاکستان کے محکمہ آبپاشی کی جانب سے (جموں اور مناور توی کے علاوہ ) کی جا رہی ہے اور یہ ڈیٹا پاکستان کمشنر برائے سندھ طاس کے ساتھ شیئر کرتا ہے۔








