لاہور۔4نومبر (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ دھان کی فصل کی برداشت اس وقت کریں جب بالائی دانے مکمل طور پر پک چکے ہوں اور نچلے دو تا تین دانے بھر چکے ہوں مگر ہلکے سبز ہوں۔ اس مرحلے پر دانوں میں نمی کا تناسب20 تا22 فیصد ہونا چاہیے۔ دھان کی کٹائی کے لیے ترجیحاً رائس ہارویسٹرمشین یا سپرسیڈر استعمال کریں تاہم اگر دستیاب نہ ہو …
محکمہ زراعت پنجاب نے دھان کی فصل کی کٹائی بارے سفارشات جاری کر دیں

مزید خبریں
لاہور۔4نومبر (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ دھان کی فصل کی برداشت اس وقت کریں جب بالائی دانے مکمل طور پر پک چکے ہوں اور نچلے دو تا تین دانے بھر چکے ہوں مگر ہلکے سبز ہوں۔ اس مرحلے پر دانوں میں نمی کا تناسب20 تا22 فیصد ہونا چاہیے۔ دھان کی کٹائی کے لیے ترجیحاً رائس ہارویسٹرمشین یا سپرسیڈر استعمال کریں تاہم اگر دستیاب نہ ہو تو کمبائن ہارویسٹر میں مناسب ایڈجسٹمنٹ کر کے استعمال کریں تاکہ دانے ٹوٹنے سے بچ سکیں اور پیداوار و معیار متاثر نہ ہو۔ کٹائی کا عمل شبنم ختم ہونے کے بعد شروع کریں۔
کٹائی کے بعد مونجی کو بڑے ڈھیروں میں جمع نہ کریں کیونکہ اس سے ایفلا ٹاکسن لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جو چاول کے معیار، قیمت اور قبولیت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ مونجی کو اچھی طرح سکھا کر محفوظ کریں اور ذخیرہ کرتے وقت نمی کا تناسب 12 تا 13 فیصد سے زیادہ نہ ہونے دیں۔ترجمان نے دھان کے کاشتکاروں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پنجاب کی اینٹی اسموگ مہم کے تحت فصل کی باقیات کو آگ لگانے پر مکمل پابندی عائد ہے،اسکو جلانے سے زمین میں موجود نامیاتی مادہ اور مفید جاندار ختم ہو جاتے ہیں جبکہ اس کی باقیات سے اٹھنے والا دھواں فضائی آلودگی اور سموگ کا باعث بنتا ہے، جو انسانی صحت اور ٹریفک حادثات کے لیے سنگین خطرہ ہے۔








