محکمہ زراعت کی کاشتکاروں کو دھان کی کٹائی کے بعد جلد پھنڈائی کاعمل مکمل کرنے کی ہدایت

فیصل آباد۔ 03 نومبر (اے پی پی):محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دھان کی کٹائی کے بعد جلد از جلد پھنڈائی کاعمل مکمل کر یں اور فصل کو کھیت میں پڑا نہ رہنے دیں کیونکہ کٹائی و پھنڈائی کے درمیان جتنا زیادہ وقفہ ہو گا چاول کی ریکوری اتنی ہی کم ہوتی جائے گی۔ ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد خالد محمودنے کہاکہ جب دانوں میں …

فیصل آباد۔ 03 نومبر (اے پی پی):محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دھان کی کٹائی کے بعد جلد از جلد پھنڈائی کاعمل مکمل کر یں اور فصل کو کھیت میں پڑا نہ رہنے دیں کیونکہ کٹائی و پھنڈائی کے درمیان جتنا زیادہ وقفہ ہو گا چاول کی ریکوری اتنی ہی کم ہوتی جائے گی۔

ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد خالد محمودنے کہاکہ جب دانوں میں نمی کی مقدار 20 سے 22 فیصد رہ جائے تو دھان کی فصل کٹائی کے قابل ہو جاتی ہے لہٰذا کٹائی کے بعد جتنی جلدی ممکن ہوسکے پھنڈائی کر لیں ۔انہوں نے کہاکہ کاشتکار رات کے وقت دانوں کو ترپال یا پرالی سے ڈھانپ دیں تاکہ دانے اوس سے محفوظ رہیں کیونکہ بے احتیاطی یا لاپرواہی سے پھنڈائی کرنے پر بہت سے دانے ضائع ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ دھان کی کٹائی کےلئے مشینیں بھی استعمال کی جا سکتی ہیں لیکن مشینیں کھیت میں کھڑے ہر قسم کے پودوں کو کاٹ لیتی اور اس طرح ملاوٹ کا باعث بن سکتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ گندم کاٹنے والی مشینیں عموماً سبز، کمزور اور خالی دانے جھاڑنے کے ساتھ ساتھ پودے کے سبز حصے بھی کاٹ لیتی ہیں جو مونجی میں زیادہ نمی کا باعث بنتے ہیں۔

علاوہ ازیں یہ مشینیں اکثر دانوں سے چھلکا اتار دیتی ہیں اور چند دانے ٹوٹ بھی جاتے ہیں چونکہ مشین سے کاٹی ہوئی فصل میں نمی زیادہ ہوتی ہے اس لئے ایسی فصل کو ذخیرہ کرنا دشوار ہوتا ہے۔انہوں نے کہاکہ مشینی کٹائی سے ایک اندازے کے مطابق 4سے 6 فیصد تک ثابت چاول کم ہوجاتا ہے جس سے چاول کی پیداوار میں کمی ہوجاتی ہے۔