کراچی۔ 27 جون (اے پی پی)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما اور پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گذشتہ روز وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کی بجٹ تقریر ہارے ہوئے جواری کی تقریر کی تھی، ان کی تقریر ایک شکست خوردہ انسان کی تقریر لگ رہی تھی۔ وزیراعلی نے جوکچھ کہا وہ سب جھوٹ کا پلندہ تھا۔انہوں نے ہفتہ کو سندھ اسمبلی اجلاس کے …
مرکزی رہنما پی ٹی آئی اور پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ کی سندھ اسمبلی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو

مزید خبریں
کراچی۔ 27 جون (اے پی پی)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما اور پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گذشتہ روز وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کی بجٹ تقریر ہارے ہوئے جواری کی تقریر کی تھی، ان کی تقریر ایک شکست خوردہ انسان کی تقریر لگ رہی تھی۔ وزیراعلی نے جوکچھ کہا وہ سب جھوٹ کا پلندہ تھا۔انہوں نے ہفتہ کو سندھ اسمبلی اجلاس کے موقع پر اسمبلی بلڈنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اسمبلی میں جو سوال چھوڑے ہیں وزیر اعلیٰ سندھ ان سوالوں کاجواب کب دیں گے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کو پانی، ٹرانسپورٹ اور سڑکیں دو اور کراچی کا کچرہ صاف کرو، ہمیں وہ پانی نہیں چاہیے جو بارش ہونے سے آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ28 کروڑ روپے گزشتہ سال اور 32کروڑ روپے رواں سال زراعت کو دیئے گئے ،کروڑوں کی گاڑیاں خریدی گئیں لیکن ٹڈی دل کاخاتمہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کتے کے کاٹنے کی ویکسین تک سندھ حکومت کھاگئی عوام جواب مانگ رہے ہیں،ایمبولینسزکے پیسے تک کھا گئے پتہ نہیں کس کودیئے،لاڑکانہ میں 2کروڑ روپے کی دوائیاں قبرستان میں ملیں، سندھ میں ویکسین نہ ملنے کی وجہ سے بچے موت کاشکار ہوتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ اربوں روپے کی گندم چوہے کھاگئے لیکن مراد علی شاہ کے پاس کوئی جواب نہیں، محکمہ خوراک کو 13 ارب روپے کی سبسڈی کیوں دی جارہی ہے، شوگرملزکے نام پر جعلی سبسڈی دی گئی۔انہوں نے سوال کیا کہ آراوپلانٹس،راشن اور 12 سال میں اربوں روپے کی کرپشن کا جواب کیوں نہیں دیا جاتا،جعلی ڈومیسائل پر سندھ حکومت نے نوکریاں بانٹ دیں،کراچی سے لاڑکانہ اور حیدرآباد سے کراچی تک پورے سندھ میں نوکریوں کے ریٹ مقرر کر کے جعلی ڈومیسائل پر نوکریاں دی گئیں۔








