مسئلہ فلسطین مشرق وسطیٰ میں بدامنی کی جڑ ، اس کے فوری اور منصفانہ حل کی ضرورت ہے،چین

اقوام متحدہ ۔24ستمبر (اے پی پی):چین نے فلسطینی مسئلے کو مشرق وسطیٰ کی بدامنی کی جڑ قرار دیتے ہوئے اس کے فوری اور منصفانہ حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔چینی خبررساں ادارے شنہوا کے مطابق یہ بات اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل نمائندے گینگ شوانگ نے سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات دہائیوں سے فلسطین اور اسرائیل کے …

اقوام متحدہ ۔24ستمبر (اے پی پی):چین نے فلسطینی مسئلے کو مشرق وسطیٰ کی بدامنی کی جڑ قرار دیتے ہوئے اس کے فوری اور منصفانہ حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔چینی خبررساں ادارے شنہوا کے مطابق یہ بات اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل نمائندے گینگ شوانگ نے سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات دہائیوں سے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازعہ بار بار جنگ و خونریزی میں تبدیل ہوتا رہا ہے جس نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و سلامتی پر بھی گہرے اثرات ڈالے ہیں۔گینگ شوانگ کے مطابق غزہ میں جاری جنگ نے فلسطینی عوام کو بدترین انسانی المیے میں دھکیل دیا ہے جبکہ لبنان، شام، یمن، ایران اور قطر میں بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام حالات عالمی سلامتی کو متاثر کر رہے ہیں اور بین الاقوامی برادری کے مشترکہ مفادات کے منافی ہیں اس لیے فلسطینی مسئلے کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔انہوں نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر تمام فوجی کارروائیاں بند کرے، بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنے فرائض ادا کرے اور انسانی امداد کی مکمل بحالی کو یقینی بنائے۔چینی سفیر نے اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع، فلسطینی املاک کی مسماری، چھاپوں، گرفتاریوں، حملوں اور آبادکاروں کے تشدد کو بھی بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔

انہوں نے خاص طور پر’’ای ون سیٹلمنٹ منصوبے ‘‘کو فلسطینی ریاست کے قیام کی بنیاد کو نقصان پہنچانے والا خطرناک اقدام قراردیا۔ چین نے دو ریاستی حل کو فلسطینی مسئلے کا واحد قابلِ عمل راستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں کئی مغربی ممالک کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کیا جانا مثبت پیش رفت ہے جسے مزید تقویت دی جانی چاہیے۔ چین نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور اقوام متحدہ میں اس کی مکمل رکنیت کی حمایت کریں۔

گینگ شوانگ نے کہا کہ چین مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے اور ایک منصفانہ و پائیدار علاقائی نظام کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں پر یقین رکھتا ہے۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ چین نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے جائز حق کی غیر متزلزل حمایت کی ہے اور وہ عالمی برادری کے ساتھ مل کر جنگ بندی، انسانی بحران میں کمی، دو ریاستی حل کے نفاذ اور فلسطینی مسئلے کے مکمل، منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے کام کرتا رہے گا۔