مسلم معاشرے فنانس و بنکاری کے شعبے میں اسلامی تعلیمات کو اپنائیں، قوم کو تعلیمی نظام کو بہتر بناکر ہیروں کو تراشنے کا ہنر سیکھنا ہو گا، ڈاکٹر عبدالقدیر خان

مسلم معاشرے فنانس و بنکاری کے شعبے میں اسلامی تعلیمات کو اپنائیں، قوم کو تعلیمی نظام کو بہتر بناکر ہیروں کو تراشنے کا ہنر سیکھنا ہو گا، اعلیٰ انجینئرنگ کے اداروں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے انہیں عالمی معیار مہیا کرنا ہو گا، ڈاکٹر عبدالقدیر خان اسلام آباد ۔ 26 اکتوبر (اے پی پی) معروف سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مسلم معاشروں پر زور دیا ہے کہ وہ فنانس و …

مسلم معاشرے فنانس و بنکاری کے شعبے میں اسلامی تعلیمات کو اپنائیں، قوم کو تعلیمی نظام کو بہتر بناکر ہیروں کو تراشنے کا ہنر سیکھنا ہو گا، اعلیٰ انجینئرنگ کے اداروں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے انہیں عالمی معیار مہیا کرنا ہو گا، ڈاکٹر عبدالقدیر خان

اسلام آباد ۔ 26 اکتوبر (اے پی پی) معروف سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مسلم معاشروں پر زور دیا ہے کہ وہ فنانس و بنکاری کے شعبے میں اسلامی تعلیمات کو اپنائیں، قوم کو تعلیمی نظام کو بہتر بناکر ہیروں کو تراشنے کا ہنر سیکھنا ہو گا، اعلیٰ انجینئرنگ کے اداروں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے انہیں عالمی معیار مہیا کرنا ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامی یونیورسٹی کی فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے زیر اہتمام منعقدہ چھٹی انٹرنیشنل ایپلائیڈ بزنس ریسرچ کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ مینجمنٹ سائنسز کی ڈگری کے متحمل اشخاص کو قوت فیصلہ کی خوبی سے مزین ہونا چاہئے، انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ڈگری کے حصول کا فائدہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کے حاصل کرنے والا اس کے ذریعے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب کرے۔ اس موقع پر انہوں نے اسلامی یونیورسٹی کی خدمات کو بھی سراہا اور جامعہ کے گزشتہ سربراہان کے ساتھ گذرے وقت کی یادوں سے بھی شرکاءکو آگاہ کیا۔ کانفرنس سے ریکٹر جامعہ ڈاکٹر معصوم یاسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کو آئندہ دس سالوں میں معیاری تدریس، تحقیق اور کارجوئی جیسے موضوعات کو اولین ترجیح دینا ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی تحقیق بے معنی ہے جو معاشرے کے لئے مفید نہ ہو۔ ریکٹر جامعہ نے کہاکہ ملک کے 56 ملین جوانوں میں صرف 105 ملین جامعات تک رسائی رکھتے ہیں جن کو ہمیں بڑھانا ہو گا کیونکہ انہی کو درست راستے پر ڈال کر ملکی ترقی کا راستہ ہموار کرنا ہوگا۔ انہوں نے ڈاکٹر قدیر کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا اور ان کی خدمات کو بھی سراہا۔

Leave a Reply