اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):اسلام آباد ،وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مشن لے کر سیاست میں آیا ہوں ،حکومت اور فوج کے درمیان بہترین تعلقات ہیں ، اپوزیشن کے پاس مورل اتھارٹی نہیں ، حزب اختلاف مال بنانے کے لئے اقتدار میں آتی ہے ، ہم نے عدلیہ یا نیب پر کوئی دباﺅنہیں ڈالا، نیب نے ہمارے وزیروں کو بھی بلایا جس پر اعتراض نہیں۔ جمعرات کو …
مشن لے کر سیاست میں آیا ہوں ،حکومت اور فوج کے درمیان بہترین تعلقات ہیں ، وزیر اعظم عمران خان

مزید خبریں
اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):اسلام آباد ،وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مشن لے کر سیاست میں آیا ہوں ،حکومت اور فوج کے درمیان بہترین تعلقات ہیں ، اپوزیشن کے پاس مورل اتھارٹی نہیں ، حزب اختلاف مال بنانے کے لئے اقتدار میں آتی ہے ، ہم نے عدلیہ یا نیب پر کوئی دباﺅنہیں ڈالا، نیب نے ہمارے وزیروں کو بھی بلایا جس پر اعتراض نہیں۔ جمعرات کو نجی ٹی وی چینل سے اپنے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہم نے مشکل حالات میں اقتدار سنبھالا،معیشت بیٹھی ہوئی تھی ،ہمارے خلاف پراپگنڈہ کیا گیا ،تنقید کی گئی، صحافیوں نے مشکل وقت میں ملکی مفادات کے تحفظ کے لئے بڑا کردار ادا کیا ، وزیر اعظم نے کہا کہ کچھ میڈیا ہاوئسز کا کردار اچھا رہا اور کچھ کا اچھا نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ نے مجھ سے پوچھ کر سیاستدانوں سے میٹنگ کی۔ انہوں نے کہاکہ فوج میرے لیے اثاثہ ہے۔ سینیٹ انتخابات میں کامیابی سے قانون سازی میں آسانی ہوگی۔وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت نواز شریف کی مدد کر رہا ہے بھارت میں کبھی اتنی پاکستان مخالف حکومت نہیں آئی جتنی اب ہے جو نظریاتی طور پر پاکستان کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہاکہ فوج حکومت کا ایک ادارہ ہے ،وزیر اعظم کا کام گورننس چلانا ہے وہ جس ادارہ سے چاہے مدد لے۔ انہوں نے کہا کہ ہم فوج کی وجہ سے بچے ہوئے ہیں ، ساری دنیا میں سیکورٹی ایشوز فوج کے پاس ہوتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ میں منتخب وزیر اعظم ہوں کس کی ہمت ہے مجھ سے استعفیٰ مانگے میں تین صوبوں سے انتخا ب جیتا ہوں اور 22سالہ سیاسی جدوجہد کے بعد اقتدار میں آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں اگر ہم اپوزیشن کی بلیک میلنگ میں آئے تو نسلیں معاف نہیں کریں گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیش شوق سے استعفیٰ دے دوبارہ الیکشن کرالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عاصم سلیم باجوہ نے اپنے اوپر لگے الزامات کا جواب دے دیا ہے۔








