اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کارکے کرندینیز الیکٹرک یوریتم (کارکے) سے متعلق 7.6 ارب روپے کے قرضہ اورنیشنل بینک سے اس کے متعلقہ اخراجات کے تصفیہ کیلئے ہدایات جاری کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ قرضہ کے سیٹلمنٹ کیلئے فنانس ڈویژن قرضہ کے ضمن میں نیشنل بینک سے رابطے میں رہی گی۔ ای سی سی نے پاورہولڈنگ لمیٹڈ کیلئے 72.635 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی …
مشیرخزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس،پاورہولڈنگ لمیٹڈ کیلئے 72.635 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری

مزید خبریں
اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کارکے کرندینیز الیکٹرک یوریتم (کارکے) سے متعلق 7.6 ارب روپے کے قرضہ اورنیشنل بینک سے اس کے متعلقہ اخراجات کے تصفیہ کیلئے ہدایات جاری کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ قرضہ کے سیٹلمنٹ کیلئے فنانس ڈویژن قرضہ کے ضمن میں نیشنل بینک سے رابطے میں رہی گی۔ ای سی سی نے پاورہولڈنگ لمیٹڈ کیلئے 72.635 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دیدی ہے۔ اجلاس میں بجلی کے شعبہ کے بقایاجات اوردیگرمتعلقہ ایشوز کو جامع اندازمیں حل کرنے کیلئے وزراعظم کے مشیربرائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹرعشرت حسین کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس بدھ کویہاں وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت کابینہ ڈویژن میں منعقدہوا۔اجلاس میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ وتحقیق سید فخرامام، وفاقی وزیرمنصوبہ بندی، ترقی واصلاحات اسدعمر، وزیرصنعت و پیداوار حماد اظہر، مشیر تجارت عبدالرزاق دائود، وزیر ریلویز شیخ رشید احمد، وزیراعظم کے مشیرڈاکٹرعشرت حسین، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے محصولات ڈاکٹروقارمسعود، اوروزیرتوانائی عمرایوب خان نے شرکت کی۔معاون خصوصی پٹرولیم ندیم بابر اور گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر نے ویڈیو لنک کے ذریعہ اجلاس میں شرکت کی۔ وزارت اطلاعات ونشریات کی جانب سے 5 اگست (محاصرہ کشمیرڈے) کوشروع کردہ میڈیا مہم کی ادائیگی کے ضمن میں اضافی فنڈز مختص کرنے کی سمری پر ای سی سی نے فیصلہ کیا کہ فنڈز کی فوری ضرورت کو مالی سال 2020-21کیلئے وزارت کیلئے مختص کردہ فنڈز کی دوبارہ تخصیص سے پوراکیا جائے اور دوبارہ تخصیص سے پیداشدہ شارٹ فال کو مالی سال کے آخرمیں تکنیکی ضمنی گرانٹ کی صورت میں پوراکیاجائیگا۔وزارت توانائی نے ای سی سی سے درخواست کی کہ کارکے کرندینیزالیکٹرک یوریتم( کارکے) سے متعلق 7.6 ارب روپے کے قرضہ اورنیشنل بینک سے اس کے متعلقہ اخراجات کے تصفیہ کیلئے ہدایات جاری کی جائے۔ ای سی سی نے فیصلہ کیا کہ قرضہ کے سیٹلمنٹ کیلئے فنانس ڈویژن قرضہ کے ضمن میں نیشنل بینک سے رابطے میں رہی گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ حتمی منظوری دے قبل تمام سٹیک ہولڈرز کی جامع مشاورت سے تجاویز مرتب کی جائے گی۔ای سی سی نے پاورہولڈنگ لمیٹڈ کیلئے 72.635 ارب روپے کے تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دیدی۔ اس سے پاورہولڈنگ کمپنی جاری مالی سال میں متعلقہ بینکوں یا فنانشل انسٹرومنٹ کے ذریعہ رقوم تقسیم کرے گی۔ قبل ازیں ای سی سی نے پاورسیکٹرکے 804 ارب روپے کے قرضہ سٹاک کوسرکاری قرضہ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیاتھا۔پاکستان ہولڈنگ لمیٹد اورقرضہ دینے والے اداروں کے درمیان قرضہ کی ادائیگی کے متفقہ شیڈول کے تحت مالی سال 2019-20میں جزوی اداےئگی کیلئے 72.635 ارب روپے کی ضرورت ہے۔ باقی رقم قرضہ دینے والے اداروں کو سال 2020-21میں پرنسپل ادائیگی کیلئے درکارہوگی۔مزیدبرآں اوجی ڈی سی ایل سے حاصل کردہ 82 ارب روپے کا قرضہ اورمجموعی 804 ارب روپے کے قرضہ کو نان کیش/ کیش سیٹلمنٹ کے ذریعہ علیحدہ علیحدہ طے کیا جائیگا۔اجلاس میں بجلی کے شعبہ کے بقایاجات اوردیگرمتعلقہ ایشوز کو جامع اندازمیں حل کرنے کیلئے وزراعظم کے مشیربرائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹرعشرت حسین کی سربراہی میں ایک کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔کمیٹی کے دیگرارکان مین ڈاکٹروقار مسعودخان، وزارت خزانہ اورپاورڈویژن کے نمائندے شامل ہوں گے۔ کمیٹی بجلی کے شعبہ کے بقایاجات اوردیگرمتعلقہ ایشوز کو جامع اندازمیں طے کرنے کیلئے ای سی سی کو تجاویزپیش کرے گی۔ای سی سی نے پاکستان انرجی سکوک ٹو(200 ارب روپے) پر 21 مئی 2020 سے لیکر20 نومبر2020 تک کی مدت پرمنافع کی پہلی قسط کی ادائیگی کیلئے امدادی پیکج سے 10 ارب روپے مختص کردئیے۔اقتصادی رابطہ کمیٹی نے تخفیف غربت فنڈ کے سودسے پاک قرضوں (آئی ایف ایل) کیلئے فنڈز مختص کرنے کی بھی منظوری دی،اجلاس میں بتایا گیا کہ بی آئی ایس پی نے جاری مالی سال میں تخفیف غربت فنڈ کے حق میں 4.98 ارب روپے سرنڈرکئے ہیں اور آئی ایف ایل پروگرام کیلئے یہی رقم استعمال میں لائی جائے گی۔








