اسلام آباد ۔ 10 مئی (اے پی پی) مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ افغانستان اور ایران کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ کا استحکام ہماری اولین ترجیح ہے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان بامعنی بات چیت افغانستان اور خطے میں امن و استحکام کیلئے ضروری ہے، تحریک طالبان اور جماعت الحرار کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں ہیں، افغان حکومت ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے، طالبان …
مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا سیمینار سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو
اسلام آباد ۔ 10 مئی (اے پی پی) مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ افغانستان اور ایران کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ کا استحکام ہماری اولین ترجیح ہے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان بامعنی بات چیت افغانستان اور خطے میں امن و استحکام کیلئے ضروری ہے، تحریک طالبان اور جماعت الحرار کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں ہیں، افغان حکومت ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے، طالبان تشدد کا راستہ چھوڑ کر امن عمل میں شامل ہو جائیں، پاکستان افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کیلئے مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے۔ یہ باتیں انہوں نے بدھ کو یہاں افغانستان میں امن سے متعلق سیمینار سے خطاب اور بعد ازاں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ جنوری 2015ءمیں نیٹو کا جنگی مشن مکمل ہونے اور افغان فورسز کی سیکورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد افغانستان میں مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ مسلسل جنگ اور ملٹری سٹریٹجی کی ناکامی سے افغان فورسز اور سویلین کو بھاری جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ امن عمل میں پیشرفت نہ ہونے سے داعش، منشیات کی سمگلنگ اور دیگر خطرات میں اضافہ ہوگیا۔ اس صورتحال سے نہ صرف افغانستان کے پڑوسی بلکہ تمام خطہ متاثر ہو رہا ہے، ایک پرامن اور خوشحال افغانستان ہمارے مفاد میں ہے۔









