اسلام آباد ۔ 12 اگست (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کی ملکیت روزویلٹ ہوٹل کے ذمہ 105 ملین ڈالر قرضوں اور واجبات کی ادائیگی کی منظوری دیدی، نیویارک کے علاقہ مین ہٹن میں واقع ہوٹل کے قرضہ کی شیڈول کے مطابق ادائیگی اورری فنانسنگ کا طریقہ کار طے کرنے کیلئے وزارت خزانہ کووزارت قانون، ایوی ایشن ڈویژن اورمنصوبہ بندی کمیشن …
مشیر خزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلے

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 12 اگست (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کی ملکیت روزویلٹ ہوٹل کے ذمہ 105 ملین ڈالر قرضوں اور واجبات کی ادائیگی کی منظوری دیدی، نیویارک کے علاقہ مین ہٹن میں واقع ہوٹل کے قرضہ کی شیڈول کے مطابق ادائیگی اورری فنانسنگ کا طریقہ کار طے کرنے کیلئے وزارت خزانہ کووزارت قانون، ایوی ایشن ڈویژن اورمنصوبہ بندی کمیشن سے مشاورت کرنے اوراس کی منظوری کیلئے ای سی سی کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کردی گئی۔۔اجلاس میں سازگارمارکیٹ کی صورتحال کی بنیاد پر ایشیائی ترقیاتی بینک کو آف شور پاکستان روپیہ لنکڈبانڈز کے اجراءاور کامیاب جوان یوتھ انٹرپرینیورشپ سکیم میں متعلقہ طریقہ کارپرپورااترنے والے تمام پاکستانی شہریوں کوشامل کرنے کے ضمن میں پروگرام کی کلیدی شرائط پرنظرثانی کی منظوری بھی دی گئی، اجلاس میں 2013 سے زیرالتواء5 کروڑ روپے تک کے انکم ٹیکس ری فنڈز کی ادائیگی کیلئے 40 ارب روپے کی منظوری دی گئی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی ) کااجلاس بدھ کویہاں وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ کی زیرصدارت منعقدہوا،اجلاس میں پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کی نیویارک کے علاقہ مین ہٹن میں ملکیتی روزویلٹ ہوٹل کی طرف سے 105 ملین ڈالر قرضہ کے حوالہ سے تمام واجبات اورذمہ داریوں کی ادائیگی کی منظوری دیدی گئی۔ ای سی سی نے روزویلٹ ہوٹل کے مالیاتی مسائل کے حل کیلئے ہوٹل کی طرف سے حاصل قرضہ کی شیڈول کے مطابق ادائیگی وری فنانسنگ کے ضمن میں وزارت خزانہ کووزارت قانون، ایوی ایشن ڈویژن اورمنصوبہ بندی کمیشن کے ساتھ مشاورت سے طریقہ کارطے کرنے اوراسے منظوری کیلئے ای سی سی کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں پائیدارترقیاتی اہداف حصول پروگرام (ایس اے پی) کے تحت لیپس شدہ 8.01 ارب روپے کے فنڈز کو تکنیکی گرانٹس کے ذریعہ متعلقہ وزارتوں اورڈویژنز کیلئے دوبارہ مختص کرنے کے ضمن میں کابینہ ڈویژن کی تجویز کا جائزہ لیا اوراس کی منظوری دی۔ اجلاس میں زندہ جانوروں اوران کی گوشت کی مصنوعات کی بین الاقوامی تجارت کو مرکزی دھارے میں لانے اوراس حوالہ سے تجارت کو بین الاقوامی قواعد وطریقہ کارکولاگوکرنے کے ضمن میں درآمدی پالیسی آرڈر2016 کا جائزہ لیا اوران میں ترامیم کی منظوری دی۔ اجلاس میں وزارت خزانہ کی تجویز پر سازگارمارکیٹ کی صورتحال کی بنیاد پر ایشیائی ترقیاتی بینک کو آف شور پاکستان روپیہ لکڈبانڈز کے اجراءکی تجویز کا جائزہ لیا گیا اوراس کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں کامیاب جوان یوتھ انٹرپرینیورشپ سکیم میں متعلقہ طریقہ کارپرپورااترنے والے تمام پاکستانی شہریوں کوشامل کرنے کے ضمن میں پروگرام کے کلیدی شرائط پرنظرثانی کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں وزارت بین الصوبائی رابطہ کی ٹریول اورسیاحت سے متعلق کاروبارکیلئے لائسنس کی سالانہ تجدیدی فیس کی ادائیگی سے استثنیٰ دینے کی تجویز کاجائزہ لیا گیا اوراس کی منظوری دی گئی ،ایک سال کیلئے فیس سے استثنیٰ کا مالیاتی اثر17 ملین روپے کے لگ بھگ ہوگا۔اجلاس میں کوروناوائرس کے اثرات کو کم کرنے کیلئے 30 جون تک قرض دہندگان کی طرف سے قرضہ کی اصل زرپرادائیگی ایک سال کیلئے موخریا ری شیڈول کرنے کی سہولت کا جائزہ لیاگیا اوریہ سہولت وزیراعظم یوتھ قرضہ سکیم اورکامیاب جوان یوتھ انٹرپرینیورشپ سکیم کے تحت قرضہ حاصل کرنے والوں کو فراہم کرنے کی منظوری دی گئی ۔ دونوں سکیموں کے تحت قرضہ حاصل کرنے والے افراد اس ضمن میں 30 ستمبر2020 سے قبل تحریری درخواست دیں گے، درخواست دہندگان دونوں سکیموں کے قواعد وضوابط وطریقہ کارکے تحت شرح سود کی ادائیگی جاری رکھیں گے۔ اجلاس میں مارچ 2020 ءمیں سارک رہنماوں کی ویڈیوکانفرس میں اعلان کردہ سارک کوویڈ19 ہنگامی فنڈ کیلئے 3 ملین امریکی ڈالرکے برابراضافی فنڈز کی منظوری دی گئی۔اجلاس کوبتایا گیا فنڈزکیلئے دیگرممبرممالک نے بھی اسی نوعیت کے اعلانات کئے ہیں۔اجلاس میں مالی سال 2020-21 کیلئے کوویڈ ریلیف اقدامات کیلئے ضابطہ جاتی شرائط کے مطابق غیراستعمال شدہ فنڈز کے ضمن مین 540 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں ریونیوڈویژن کی تجویز پر2013 سے زیرالتواء5 کروڑ روپے تک کے انکم ٹیکس ری فنڈز کی ادائیگی کیلئے 40 ارب روپے کے انتظامات کرنے کی تجویز کا جائزہ لیاگیا اوراس کی منظوری دی گئی۔ای سی سی نے وزارت خزانہ کومطوبہ فنڈز کی ادائیگی کا انتظام کرنے کی ہدایت کی۔ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے ایف بی آر کو زیرالتواءری فنڈز کی صورتحال پرای سی سی کوآگاہ کرنے کی ہدایت کی اورکہاکہ ٹیکس گزاروں کو ری فنڈز کی ادائیگی حکومت کی اولین ترجیح ہے، گزشتہ مالی سال میں ٹیکس گزاروں کو 250 ارب روپے کے ری فنڈز کی ادائیگی ہوئی ہے جوپیوستہ مالی سال کے مقابلے دوگنا زیادہ ہے۔








