معاشی استحکام کے باوجود کاروباری ماحول میں بہتری کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ صدر لاہور چیمبر

لاہور۔31دسمبر (اے پی پی):لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے سال2025 کو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک ایسا سال قرار دیا ہے جو بتدریج معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ متعدد چیلنجز کا بھی مظہر رہا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ مختلف معاشی اشاریوں میں قابلِ ذکر بہتری دیکھنے میں آئی،لیکن تجارتی خسارہ، توانائی کی زیادہ لاگت، سرمایہ کاری کی سست رفتاری اور محدود ٹیکس …

لاہور۔31دسمبر (اے پی پی):لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے سال2025 کو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک ایسا سال قرار دیا ہے جو بتدریج معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ متعدد چیلنجز کا بھی مظہر رہا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ مختلف معاشی اشاریوں میں قابلِ ذکر بہتری دیکھنے میں آئی،لیکن تجارتی خسارہ، توانائی کی زیادہ لاگت، سرمایہ کاری کی سست رفتاری اور محدود ٹیکس نیٹ جیسے مسائل اب بھی معیشت کے لیے سنگین رکاوٹیں ہیں۔سال 2025میں معیشت کے استحکام کے باوجود کاروباری ماحول میں بہتری کے لیے کئی اقدامات کی ضرورت ہے۔

لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار کرنے کی آسانی کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ سرمایہ کار اعتماد کے ساتھ ملکی صنعت میں سرمایہ کاری کریں۔ انہوں نے توانائی کی زیادہ قیمتوں، پر تشویش ظاہر کی، ایس آر اوز کے غلط استعمال کو بھی معاشی غیر یقینی صورتحال کا سبب قرار دیا اور برآمدات کی پالیسی میں اصلاحات پر زور دیا، خاص طور پر برآمدات کو فائنل ٹیکس رجیم میں واپس لانے کے لیے اقدامات کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے تجارتی خسارہ بھی ایک بڑا چیلنج قرار دیا جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ فہیم الرحمن سہگل نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری کی حالیہ مثال کی تعریف کی اور کہا کہ مقامی سرمایہ کاروں کی جانب سے یہ کمپنی خریدنا مثبت اقدام ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے سرمایہ کاروں میں صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دیگر سرکاری ادارے (SOEs) کی بھی جلد نجکاری کی جانی چاہئے تاکہ ملکی سرمایہ کاری اور اقتصادی استحکام مزید مضبوط ہو۔

اپنے تفصیلی جائزے میں لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ سال 2025کے دوران کئی شعبوں میں مثبت رجحانات نے کاروباری ماحول کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کی۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ پیش رفت پالیسی کے تسلسل، معاشی اصلاحات اور ترسیلات زر کی بدولت ممکن ہوئی اور یہ اعتماد بحالی کا آغاز ہے جو سرمایہ کاری، برآمدات اور صنعتی ترقی کے لیے ضروری ہے۔