نیویارک ۔ 8 اگست (اے پی پی) بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے اقدام سے افغانستان میں قیام امن کیلئے امریکی کوششو ں کیلئے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ یہ بات معروف و بااثر امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے اس اقدام سے طالبان کے ساتھ امن معاہدہ …
معروف امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ

مزید خبریں
نیویارک ۔ 8 اگست (اے پی پی) بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے اقدام سے افغانستان میں قیام امن کیلئے امریکی کوششو ں کیلئے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ یہ بات معروف و بااثر امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے اس اقدام سے طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کیلئے امریکی کوششوں کیلئے خطرات پیدا ہو گئے ہیں اخبار نے کہا ہے کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے اس اقدام کا ایک عنصر پاکستانی وزیراعظم کے کامیاب دورہ واشنگٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کی پیشکش ہو سکتا ہے۔ اخبار کے مطابق بھارتی حکومت نے یہ اقدام ایک ایسے موقع پر کیا ہے جب طالبان کے ساتھ مذاکرات تقریباً حتمی اور نتیجہ خیز مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ امریکہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات اور کسی معاہدے پر پہنچنے کیلئے اقدامات کر رہا تھا۔ امریکی خصوصی نمائندے ا سلام آباد اور نئی دہلی بھی جا رہے تھے کیونکہ امریکا کسی بھی معاہدے پر پہنچنے سے پہلے اس کیلئے علاقائی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی اقدام کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کی وجہ سے پاکستان کی توجہ افغانستان کے ساتھ مغربی سرحد کی بجائے دوبارہ مشرقی سرحد کی طرف مبذول ہو گئی ہے۔ پاکستان طالبان کے ساتھ مذاکرات اور امن معاہدے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اخبار کے مطابق اگرچہ بھارت نے اس اقدام کو ملک کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جن علاقوں کے متعلق یہ اقدام کیا گیا ہے وہ متنازعہ ہیں۔ پاکستان کے علاوہ چین بھی اس اقدام کا مخالف ہے۔ بھارتی حکومت کے اس اقدام نے سرحدوں پر صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اخبار نے کہا ہے کہ بھارتی اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے کشمیر میں گزشتہ تین روز سے انٹرنیٹ اور مواصلات کے دیگر ذرائع منقطع ہیں۔ علاقے میں کرفیو نافذ ہے ایسے حالات کی وجہ سے افغانستان میں قیام امن اور طالبان کے ساتھ امن سمجھوتہ کیلئے کوششیں خطرات سے دوچار ہو گئی ہیں۔








