چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ معیاری قانونی تعلیم ایک باصلاحیت قانونی برادری اور موثر نظام انصاف کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے، قانونی تعلیم میں عملی مہارت اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے یہ بات سپریم کورٹ میں پاکستان بار کونسل کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔
معیاری قانونی تعلیم موثر نظام انصاف کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔17ستمبر (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ معیاری قانونی تعلیم ایک باصلاحیت قانونی برادری اور موثر نظام انصاف کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے، قانونی تعلیم میں عملی مہارت اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے یہ بات سپریم کورٹ میں پاکستان بار کونسل کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔
وفد کی قیادت پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین پیر محمد مسعود چشتی نے کی۔وفد نے چیف جسٹس آف پاکستان کو ڈائریکٹوریٹ آف لیگل ایجوکیشن کی دو سالہ پیش رفت رپورٹ برائے 2024-2026 پیش کی اور قانونی تعلیم کا معیار بہتر بنانے اور پیشہ ورانہ معیارات مضبوط کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ملاقات میں قانون کی تعلیم دینے والے اداروں کی نگرانی، نصاب کی بہتری اور وکلاء کے لیے مسلسل قانونی تعلیم اور عملی تربیت کے مواقع بڑھانے سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ مستقبل کے وکلاء کی بہتر پیشہ ورانہ تیاری کے لیے بار، قانونی تعلیمی اداروں اور دیگر متعلقہ شراکت داروں کے درمیان مسلسل تعاون ضروری ہے۔ملاقات میں پاکستان میں قانونی تعلیم کا معیار مزید بہتر بنانے کے لیے مسلسل ادارہ جاتی روابط اور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔







