معیشت کا مجموعی منظرنامہ بدستور مثبت ہے، دسمبر میں افراط زر اعتدال میں رہنے اور اس کی شرح تقریباً 5.5 سے 6.5 فیصد کے درمیان متوقع ہے، وزارت خزانہ

اسلام آباد۔31دسمبر (اے پی پی):وزارت خزانہ نے کہاہے کہ صنعتی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ اور ٹیکسٹائل، آٹوموبائل، سیمنٹ اور فوڈ پروسیسنگ جیسے اہم شعبوں میں برقرار رہنے والی رفتار کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کے بارے میں مجموعی منظرنامہ بدستور مثبت ہے، دسمبر میں افراط زر اعتدال میں رہنے کا امکان ہے اور اس کی شرح تقریباً 5.5 سے 6.5 فیصد کے درمیان متوقع ہے۔ یہ بات وزارت خزانہ …

اسلام آباد۔31دسمبر (اے پی پی):وزارت خزانہ نے کہاہے کہ صنعتی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ اور ٹیکسٹائل، آٹوموبائل، سیمنٹ اور فوڈ پروسیسنگ جیسے اہم شعبوں میں برقرار رہنے والی رفتار کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کے بارے میں مجموعی منظرنامہ بدستور مثبت ہے، دسمبر میں افراط زر اعتدال میں رہنے کا امکان ہے اور اس کی شرح تقریباً 5.5 سے 6.5 فیصد کے درمیان متوقع ہے۔ یہ بات وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والی ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ بڑی صنعتوں کی پیداوارمیں نمایاں اضافہ ہواہے اور توقع ہے کہ بحالی کایہ سفرجاری رہے گا، صنعتی مسابقت میں بہتری کے لیے جاری ڈھانچہ جاتی اصلاحات سے یہ عمل بہتراندازمیں آگے بڑھ رہاہے۔ بیرونی محاذ پر حسابات جاریہ کے کھاتوں کاتوازن مقررہ ہدف کی حدود میں رہنے کی توقع ہے تاہم ترسیلاتِ زر میں مضبوط اضافہ اور آئی ٹی و خدمات شعبہ کی برآمدات کی مستحکم کارکردگی سے بیرونی دبائو کو کم کرنے میں مدد ملہ گی۔ رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ مالیاتی استحکام کے تسلسل سے کلی معیشت کے استحکام کو مزید تقویت ملنے کی توقع ہے، جہاں حکومتی سطح پر اخراجات کے موثر انتظام، ٹیکس وصولیوں میں بہتری اورڈھانچہ جاتی اصلاحات پائیدار معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گی۔

مجموعی طور پر توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں پاکستان کی معیشت اپنی مثبت رفتار برقرار رکھے گی جس کی محرکات صنعتی ترقی، بہتر طرز حکمرانی، ڈیجیٹائزیشن اور محتاط میکرو اکنامک انتظامات ہیں۔ ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے 5ماہ میں سمندرپارپاکستانیوں کی ترسیلات زرکاحجم 16.14 ارب ڈالر رہا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 14.76 ارب ڈالر کے مقابلہ میں 9.3 فیصد زیادہ ہے،نومبرمیں سمندرپارپاکستانیوں نے 3.188 ارب ڈالر زرمبادلہ ملک ارسال کیاجوگزشتہ سال نومبرکے 2.915 ارب ڈالر کے مقابلہ میں 9.4 فیصد زیادہ ہے،ملکی برآمدات کاحجم 12.8 ارب ڈالر اوردرآمدات کاحجم 25.6 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا ،گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں برآمدات کاحجم 13.2 ارب ڈالر اوردرآمدات کاحجم 23 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔

اعدادوشمارکے مطابق حسابات جاریہ کے کھاتوں کاخسارہ 812ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 503ملین ڈالر فاضل تھا،مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کاحجم 927.4ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 1.242 ارب ڈالر کے مقابلہ میں 25.3 فیصد کم ہے،19 دسمبر 2025ء کوزرمبادلہ کے ذخائرکاحجم 21 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ سال 20دسمبرکو16.4 ارب ڈالر تھا،30 دسمبر 2025ء کو ایکسچینج ریٹ 280.1 روپے تھا جوگزشتہ سال 30 دسمبر کو 278.5 روپے تھا۔

وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال کے پہلے چار ماہ میں ایف بی آرکے محصولات کاحجم 4.73ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 4.29ٹریلین روپے کے مقابلہ میں 10.2 فیصد زیادہ ہے،نومبر 2025ء میں ایف بی آرکے محصولات کاحجم 898.7 ارب روپے تھا جوگزشتہ سال نومبرکے 852.3 ارب روپے کے مقابلہ میں 5.4 فیصد زیادہ ہے،مالی سال کے پہلے چارماہ میں نان ٹیکس ریونیوکاحجم 3.309ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ سال کی اسی مدت کے 3.192ٹریلین روپے کے مقابلہ میں 3.7 فیصد زیادہ ہے،مالی خسارہ کاحجم 1.323ٹریلین روپے رہا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 494.6 ارب روپے تھا،پرائمری بیلنس 3.544ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا۔

وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں صارفین کیلئے قیمتوں کاعمومی اشاریہ(سی پی آئی) 5 فیصد ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 7.9 فیصد تھا،مالی سال کے پہلے چارماہ میں بڑی صنعتوں کی پیداوارمیں اضافہ کی شرح 5.2 فیصد ریکارڈکی گئی ہے

،پاکستان سٹاک مارکیٹ میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے،30دسمبرکوکے ایس ای 100انڈیکس 174472پوائنٹس ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ سال 30دسمبرکے 115259پوائنٹس کے مقابلہ میں 52 فیصد زیادہ ہے،30دسمبر2025کومارکیٹ کیپٹلائزیشن کاحجم 70.28 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ سال 30دسمبرکے 52.27 ارب ڈالر کے مقابلہ میں 34.4 فیصد زیادہ ہے،نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں سالانہ بنیادوں پر29 فیصد کااضافہ ہوا۔