مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے ظالمانہ اور غیر انسانی اقدامات پرکشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ

اسلام آباد ۔ 30 جولائی (اے پی پی) بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر گزشتہ سال پانچ اگست سے بھارت کے ظالمانہ اور غیرانسانی محاصرے میں ہے جہاں عام لوگوں کی نقل وحرکت اور ذرائع مواصلات پر مکمل پابندی عائد ہے۔ انسانی حقو ق کی خلاف ورزیاں انتہاءکو پہنچ چکی ہیں جبکہ وادی کے عوام اپنی شناخت ، سماجی مسائل ، مذہب ، رسم ورواج اور زبان کے …

اسلام آباد ۔ 30 جولائی (اے پی پی) بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر گزشتہ سال پانچ اگست سے بھارت کے ظالمانہ اور غیرانسانی محاصرے میں ہے جہاں عام لوگوں کی نقل وحرکت اور ذرائع مواصلات پر مکمل پابندی عائد ہے۔ انسانی حقو ق کی خلاف ورزیاں انتہاءکو پہنچ چکی ہیں جبکہ وادی کے عوام اپنی شناخت ، سماجی مسائل ، مذہب ، رسم ورواج اور زبان کے حوالے سے انتہائی خوف اور شکوک وشبہات کا شکار ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت کی جانب سے مقبوضہ وادی کے پانچ اگست کے فوجی محاصرے کے آغاز سے جون 2020تک بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں درجنوں بے گناہ کشمیری شہید ہو چکے ہیں، جن میںنوجوان ، خواتین اور بچے شامل ہیں ۔ اسی عرصے کے دوران 13582افراد کو گرفتار کیا گیا، 1331کشمیریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور 13کشمیریوں کو دوران حراست شہید کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق بھارتی فوجیوں کی جانب سے تقریباً935مکانات ، دکانوں اور دیگر املاک کی لوٹ مار کی گئی جبکہ77 کشمیری خواتین کی آبروریزی کی گئی۔ جنوری 1989سے اب تک بھارتی فوجیوں کی جانب سے95,623 کشمیریوں کو شہید کیا گیا جن میں سے7141کشمیریوں کو دوران حراست شہید کیا گیا۔ اسی عرصے کے دوران بھارتی فوجیوں کی جانب سے 8000نوجوانوں کو دوران حراست لاپتہ کر دیا گیا، تقریباً11200خواتین کی عصمت دری کی گئی جبکہ 110,334مکانات کو تباہ کر دیا گیا۔ کشمیری حریت رہنماﺅں جن میں بزرگ حریت رہنماءسید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور بیمار رہنماءمحمد یاسین ملک کو یا تو گھر پر نظر بند کر دیا گیا یا پھر انہیں گرفتار کر لیا گیا اور ان کے ساتھ غیر انسانی ناروا سلوک کیا جارہا ہے۔گزشتہ سال بھارتی آئین کے آرٹیکل 370A کی منسوخی کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں اہم معاشی شعبہ انحطاط کا شکار ہے۔ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال پانچ اگست کے فوجی محاصرے کے بعد مواصلاتی پابندیوں اور کرفیو کی بدولت سیاحت اور دستکاری کے شعبوں سے وابستہ 144,500کشمیری بے روزگار ہو چکے ہیں ۔ کشمیر چیمبر کے مطابق پانچ اگست کے بھارتی اقدام کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور 15000کروڑ بھارتی روپے کا معاشی نقصان ہوچکا ہے جبکہ496000کشمیری بے روزگار ہوئے ہیں ۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے اور اسے دو یونین اکائیوں میں جموں وکشمیر اور لداخ میں تقسیم کئے جانے کے بعد سے ٹور آپریٹر کو بھار ی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ مواصلاتی پابندیوں کے نتیجے میں تاجر برادری کو اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا، قالین کی صنعت سے وابستہ تقریباً60000افراد کو نقصان برداشت کرنا پڑاجبکہ مواصلاتی اور انٹرنیٹ پابندیوں کے باعث یونیورسٹیوں کے طلباءکو آن لائن تعلیم اور اسکالر شپ کے حصول میں مشکلات کا سامنا رہا۔آزاد کشمیر اور دنیا بھر کی کشمیری قیادت نے پانچ آگست 2019کے بھارتی اقدام کو کشیر کی تاریخ کا سیاہ دن قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس ظالمانہ اقدام کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر کوزبردستی اپنے ساتھ ملانے کے فیصلے کو واپس لینے کے لئے بھارت پر دباو ڈالے۔سینئر حریت رہنماءغلام محمد صفی نے پانچ آگست 2019 کو یوم سیاہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دن کشیریوں کو ان کی ریاستی شناخت سے محروم کر دیا گیا۔کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہیں کمشیری عوام کو اپنے مستقبل کو ابھی فیصلہ کرنا ہے۔بھارت یکطرفہ طور اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ علاقے کا بطور یونین اکائی حثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔ برطانیہ میں قائم کشمیری تنظیم آرگنائزیشن آف کشمیر کولیشن کے ایگزیکٹو رکن پروفیسر نذیر احمد شال نے کہا کہ پانچ اگست کشمیر کی تار یخ کا سیاہ دن ہے گزشتہ سال اسی روز بھارت نے ایک بار پھر کشمیریوں کی شناخت، ان کی بنیادی آزادیوں اور ان کی ثقافت پر حملہ کیا ۔انہوں نے کہاکہ بھارت نے یکطرفہ اقدام کیا جو اس کے دائرہ کار میں نہیں تھا، اس نے اپنے آئین پر خود کش حملہ کیا ہے،انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب عارضی الحاق کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری کشمیر کی بھارتی تسلط سے آزادی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کو اپنا فیصلہ واپس لینا ہوگا اور کشمیری عوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق دینا ہوگا۔کشمیری عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ آگے آئے اور کشمیریوں کی اپنے حق خود ارادیت کے حصول میں مد د کرے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پانچ اگست کو انٹربیشنل لاک ڈاﺅن کے طور پر منائیں گے جس کا مقصد عالمی برادری کو کشمیریوں کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے کرنے کے لئے جگانا ہے۔

مزید خبریں