مقبوضہ کشمیرمیں انتظامیہ نے محرم کے جلوسوں پر مکمل پابندی عائدکر دی مقبوضہ وادی میں مسلسل 34ویں رو زبھی محاصرہ جاری رہا

سرینگر ۔ 7 ستمبر (اے پی پی)مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت شہریوں کے تمام بنیادی حقوق اور آزادیاںسلب کرنے کے بعد اب انہیں مذہبی فرائض کی ادائیگی سے بھی روک رہی ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق پانچ اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعدسے اب تک بھارتی حکام نے کشمیری مسلمانوں کو سرینگر کی تاریخی جامع مسجد اور مقبوضہ وادی کی دیگر مرکزی مساجد میں نمازجمعہ …

سرینگر ۔ 7 ستمبر (اے پی پی)مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت شہریوں کے تمام بنیادی حقوق اور آزادیاںسلب کرنے کے بعد اب انہیں مذہبی فرائض کی ادائیگی سے بھی روک رہی ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق پانچ اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعدسے اب تک بھارتی حکام نے کشمیری مسلمانوں کو سرینگر کی تاریخی جامع مسجد اور مقبوضہ وادی کی دیگر مرکزی مساجد میں نمازجمعہ اداکرنے کی بھی اجازت نہیں دی۔ مقبوضہ وادی گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے سخت محاصرے میں ہے۔ قابض انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں محرم الحرام کا کوئی بھی جلوس نکالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ یہ جلوس بھارت مخالف مظاہروں میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ میدان کربلا میں شہید کیے جانے والے رسول اکرم صہ کے نواسے حضرت امام حسین صہ اور انکے ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے 8اور 10محرم کو سرینگر اور مقبوضہ وادی کے دیگر علاقوںمیں بہت بڑے جلوس نکالے جاتے تھے تاہم قابض انتظامیہ نے ان جلوسوں پر9 198میں پابندی عائد کر دی تھی۔دریں اثنا مقبوضہ وادی کا آج 34ویں روز بھی سخت فوجی محاصرہ برقرار ہا۔