مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے کولگام میں پانچ نوجوان شہیداور متعددزخمی کردیے

سری نگر۔ 10 فروری (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوںنے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں ضلع کولگام میں پانچ کشمیری نوجوانوں کو شہیداور احتجاجی مظاہرین پر فائرنگ کرکے درجنوں افراد کو زخمی کردیا۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق فوجیوں نے نوجوانوں کو ضلع کے علاقے کیلم میں محاصرے اور تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران شہید کیا۔یہ کارروائی بھارتی فوج کی 9راشٹریہ رائفلز، سینٹرل ریزرو پولیس فورس …

سری نگر۔ 10 فروری (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوںنے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں ضلع کولگام میں پانچ کشمیری نوجوانوں کو شہیداور احتجاجی مظاہرین پر فائرنگ کرکے درجنوں افراد کو زخمی کردیا۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق فوجیوں نے نوجوانوں کو ضلع کے علاقے کیلم میں محاصرے اور تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران شہید کیا۔یہ کارروائی بھارتی فوج کی 9راشٹریہ رائفلز، سینٹرل ریزرو پولیس فورس اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے مشترکہ طورپر کی تھی۔فوجیوں نے آپریشن کے دوران دو مکان بھی تباہ کردیے۔شہیدنوجوانوں کی شناخت وسیم بشیر راتھر، زاہد پرے، ادریس بٹ، عاقب نذیر اورپرویز بٹ کے طورپر ہوئی ہے۔ نوجوانوں کی شہادت پر ضلع کولگام کے علاقے کیلم میں زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے اور مظاہرین اور فورسز اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ بھارتی فوجیوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے گولیوں، پیلٹزاور آنسو گیس کابے دریغ استعمال کیا جس سے درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔ پیلٹ سے زخمی ہونے والے کم ازکم دس افرادکو کولگام کے ڈسٹرکٹ ہسپتال میں داخل کیاگیا۔قابض حکام نے ضلع میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز معطل کردیں جبکہ جنوبی کشمیر میں ٹرین سروس بھی معطل کی گئی ہے۔ دریں اثنا ء ممتاز کشمیری آزادی پسند رہنما محمد مقبول بٹ کی شہادت کی برسی پر کل مقبوضہ علاقے میں مکمل ہڑتال کی جائے گی جبکہ لالچوک سرینگر میں ایک احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا جائے گا ۔ ہڑتال اور ریلی کی کال سید علی گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے دی ہے ۔اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نام ایک یادداشت بھی بھیجی جائے گی جس میں ان سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے مداخلت کریں۔ بھارت نے محمد مقبول بٹ کو جد وجہدآزادی میں انکے کردار کی پاداش میں 11فروری1984ء کو نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں پھانسی دیکر انکی میت جیل کے احاطے میں ہی دفن کر دی تھی۔مشترکہ حریت قیادت کی اپیل پر شہیدمحمد مقبول بٹ اور شہید محمد افضل گورو کے درجات کی بلندی کیلئے آج مقبوضہ علاقے کی تمام مساجد میں خصوصی دعائیہ تقاریب کا اہتمام کیا گیا۔جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں محمد مقبول بٹ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید ایک نظریہ ساز قائد، ایک مجاہداور ایک سیاسی رہنما تھے جنہوں ایک مقدس مشن کیلئے اپنی جان قربان کی۔ انہوں نے بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں آج کولگام میں شہید ہونے والے پانچ کشمیری نوجوانوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔ادھر قابض انتظامیہ نے سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، محمد اشرف صحرائی، محمد یاسین ملک اور دیگر حریت رہنمائوں کو محمد مقبول بٹ کی شہادت کی برسی پر احتجاجی مظاہروں کی قیادت سے روکنے لیے بدستور گھروں اور تھانوں میں نظر بند رکھا ہے۔ادھر مانچسٹر میں محمد افضل گورو کے یوم شہادت کے سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب کے مقررین نے برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک پر زوردیا ہے کہ وہ تنازعہ کشمیر کو حل کرانے کے لیے بھارت پر دبائو ڈالیں۔ تقریب کا اہتمام جموںوکشمیر تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل نے کیا تھا۔