اسلام آباد۔8جولائی (اے پی پی):ادارہ برائے شماریات پاکستان نے کہا ہے کہ ملک بھر میں ساتویں زراعت شماری کا انعقادکیا جائے گا،زراعت شماری کا انعقاد اہم قوم کےوسیع تر فروغ کے لئے ادارۂ شماریات پاکستان کے عزم کا اظہار ہے،زراعت بالواسطہ اور بلا واسطہ ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ترجمان محمد سرور گوندل نے پیر اپنے بیان میں کہا کہ ادارہ شماریات کی جانب سے پہلی مرتبہ …
ملک میں ساتویں زراعت شماری کا انعقادکیا جائے گا، یہ بالواسطہ اور بلا واسطہ ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے، ترجمان ادارہ شماریات محمد سرور گوندل

مزید خبریں
اسلام آباد۔8جولائی (اے پی پی):ادارہ برائے شماریات پاکستان نے کہا ہے کہ ملک بھر میں ساتویں زراعت شماری کا انعقادکیا جائے گا،زراعت شماری کا انعقاد اہم قوم کےوسیع تر فروغ کے لئے ادارۂ شماریات پاکستان کے عزم کا اظہار ہے،زراعت بالواسطہ اور بلا واسطہ ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ترجمان محمد سرور گوندل نے پیر اپنے بیان میں کہا کہ ادارہ شماریات کی جانب سے پہلی مرتبہ مربوط طریقہ اپناتے ہوئےملک بھر میں ساتویں زراعت شماری کا انعقاد کیا جا رہا ہے، زراعت بالواسطہ اور بلا واسطہ ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے،یہ پہلی زراعت شماری ہے جس میں زراعت، مویشیوں اور زرعی مشینری کو ایک ساتھ شمار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ شماریات کی جانب سے ماسٹر ٹرینرز کی تربیت کا آغاز 8 جولائی 2024 کو کر دیا گیاہے جس میں 311 ماسٹر ٹرینرز تربیت حاصل کرنے کے بعد ضلعی سطح پر فیلڈ سٹاف کو تربیت دیں گے ۔ شمار کنندگان کے لیے زراعت شماری کے عملی کام کی آسانی کے لئے ہدایت نامہ تیار کیا گیا ہے،
ادارہ شماریات کے علاوہ صوبائی محکمۂ مال،محکمۂ زراعت،محکمۂ حیوانات،کراپ رپورٹنگ سروس،محکمۂ شماریات اور محکمۂ تعلیم کو بھی زراعت شماری کے کام پر مامور کیا گیا ہے،ضرورت پڑنے پر دیگر صوبائی محکموں کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔اعداد و شمار کے جامع تجزیے کے بعد زراعت شماری کی حتمی رپورٹ ستمبر 2025 میں جاری کی جائے گی۔زراعت شماری کے فیلڈ آپریشن کا آغاز اگست 2024 میں بڑے زرعی گھرانوں کی گنتی کے ساتھ کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبے کا پاکستان کی جی ڈی پی میں 24 فیصد جبکہ افرادی قوت میں 37فیصد حصہ ہے،زراعت شماری کا ڈیٹا زراعت اور اس سے منسلک شبعوں کے حوالے سےمربوط فیصلہ سازی اور پالیسی سازی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ساتویں زراعت شماری کے لئے ٹیبلٹ ، لیپ ٹاپ ، انٹرنیٹ ڈیوائسز جیسے آئی ٹی ٹولز اور تکنیک کا استعمال کیا جائےگا، فورم کو ملک بھر میں فیلڈ دفاتر اور 157 ضلعی دفاتر پر مشتمل وسیع آپریشنل نیٹ ورک کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ ادارہ شماریات نے ساتویں زراعت شماری کے موثر نفاذ کے لئے اپنےادارے کے غیر متزلزل تعاون کا یقین دلایا،ملکی ترقی کے لیے جامع پالیسیوں اور ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کا انحصار درست اور اہم زرعی اعدادو شمار پر منحصر ہے۔








