پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش تمام مسائل اور چیلنجوں کا حل سیاسی اتفاق رائے میں ہے، مودی غلط فہمی میں نہ رہے پاکستان کے حصے کا پانی بند کیا گیا تو اس پر جنگ سے بھی گریز نہیں کریں گے، گلگت بلتستان کو پیپلز پارٹی نے سیاسی اور آئینی حقوق دیئے
ملک کو درپیش تمام مسائل اور چیلنجوں کا حل سیاسی اتفاق رائے میں ہے، مودی غلط فہمی میں نہ رہے پاکستان کے حصے کا پانی بند کیا گیا تو اس پر جنگ سے بھی گریز نہیں کریں گے، کالعدم ایکشن کمیٹی احتجاج ختم کرے ، بلاول بھٹو زرداری

مزید خبریں
اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش تمام مسائل اور چیلنجوں کا حل سیاسی اتفاق رائے میں ہے، مودی غلط فہمی میں نہ رہے پاکستان کے حصے کا پانی بند کیا گیا تو اس پر جنگ سے بھی گریز نہیں کریں گے، گلگت بلتستان کو پیپلز پارٹی نے سیاسی اور آئینی حقوق دیئے، انہیں شناخت دی، پیپلز پارٹی کی بنیاد کشمیر پر رکھی گئی ہے، کالعدم ایکشن کمیٹی احتجاج ختم کرے ،ان سے کئے گئے معاہدے کے باقی رہ جانے والے نکات پر عملدرآمد کیلئے راستہ سیاسی بات چیت ہے، ایسا ماحول نہ بنایا جائے کہ اس سے تنازعہ کشمیر کو نقصان پہنچے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے پر وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جنہوں نے ہمیشہ امن، جمہوریت اور مستحکم خطے کی بات کی ہے، پاکستان کی مسلح افواج کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جن کی صلاحیت اور وطن کے دفاع کیلئے ان کی خدمات نے پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا۔
انہوں نے کہا کہ پا کستان جنگ کی قیمت اچھی طرح جانتا ہے، اس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معاشی اثرات برداشت کئے ہیں اس لئے پاکستان ہمیشہ امن کا پرچم بلند کرتا ہے کیونکہ یہ صرف ایک اخلاقی ضرورت نہیں بلکہ معاشی استحکام اور تجارتی سرگرمیوں سمیت خطے میں استحکام کیلئے امن ضرورت ہے، اس سے سرمایہ کاری آتی ہے، نوجوانوں کو روزگار ملتا ہے اور ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومیں صرف ہتھیاروں کی طاقت سے عظیم نہیں بنتیں بلکہ وہ اس وقت عظیم بنتی ہیں جبکہ ہ وہ اپنے عوام ، اپنے نوجوانوں کو مواقع فراہم کرتی ہیں، مزدوروں کو عزت اور غریبوں کو سہارا دیتی ہیں آج جب دنیا امن کی طرف بڑھ رہی ہے اسی طرح پاکستان کو ترقی کی طرف قدم بڑھانا ہو گا ،اسی جذبے اور اسی قومی مقصد کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ امن کے حوالے سے کی جانے والی کاوشوں کے باوجود ابھی مکمل امن نہیں ہوا، ایران اور امریکہ کے درمیان امن کی کوششوں کے باوجود ایسے عناصر موجود ہیں جو امن کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مغربی سرحد پر افغانستان سے متعلق سیکورٹی چیلنجز اب بھی ہمارے سامنے ہیں، مشرقی سرحد پر بھارت کی جانب سے آپریشن سندور ٹو کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ بیرون ملک کی قوتیں دہشت گردی کو سپورٹ کر رہی ہیں اور پاکستان کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات قابل فخر ہے کہ پاکستان نے ان چیلنجوں کا جواب سیاسی اتفاق اور جمہوری روایات کے ذریعے دیا ہے، وفاقی حکومت اور صوبوں نے مل کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ دفاع اور قومی سلامتی سے متعلق غیر معمولی ضروریات کا بوجھ مشکل وقت میں مل کر اٹھایا جائے گا۔
یہ فیصلہ کسی غیر آئینی طریقے سے نہیں بلکہ آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت کیا گیا ہے جو وفاق اور صوبوں کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ ایسی کسی صورتحال میں ایک دوسرے سے مالی تعاون کر سکتے ہیں اور اس آئین کے آرٹیکل کے تحت صوبے وفاق کو گرانٹ دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب موجودہ بجٹ میں صوبوں کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا تو ہمارے میڈیا نے یہ افواہیں پھیلائیں کہ 18ویں ترمیم کو ختم کیا جا رہا ہے اور اس ترمیم کے ذریعے صوبوں کے مالی وسائل کو جو آئینی تحفظ دیا گیا تھا وہ ختم کیا جا رہا ہے۔ بینظیر ا نکم سپورٹ کو ختم کیا جا رہا ہے، یہ افواہیں تھیں میں وزیراعظم شہباز شریف وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ان کی پوری ٹیم کا شکر گزار ہوں، ہم نے سیاسی اتفاق رائے سے اس مسئلے کا ایک آئینی اور جمہوری حل نکالااور ہم نے دیگر صوبوں کے ساتھ مل کر یہ طے کیا کہ صوبہ سندھ باقی صوبوں کی طرح قومی دفاع کیلئے اپنا حصہ ڈالے گا۔ ساتھ ساتھ وفاقی حکومت نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ صوبے کے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت انہیں ملنے والے وسائل کو محفوظ رکھا گیا ہے اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔
وفاق کو دی جانے والی یہ گرانٹ تین سال کے انتظامات کے تحت ہے اس کے علاوہ وفاقی حکومت صوبے سے مزید کسی گرانٹ کی درخواست نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے اور واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ صوبے کا این ایف سی میں حصہ محفوظ ہے اور اس فیصلے سے مزید کسی قربانی کا تقاضا نہیں کیا جائے گا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ صرف مالی انتظام نہیں بلکہ پاکستان کی سیاست کی کامیابی کا ثبوت ہے کہ جب قومی وقار دائو پر ہو تو جمہوری ادارے، سیاسی جماعتیں اور فیڈریشن کے تمام حصے مل کر فیصلے کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں قوموں کو طاقت یا ہتھیاروں کے بل بوتے پر نہیں بلکہ آئین کے تحت اقدامات سے طاقت ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش وسائل، خطرات اور چیلنجوں سے بھی اسی قومی و سیاسی اتفاق رائے سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے، ہم مل کر مسائل کا مقابلہ کریں تو پاکستان ہر مشکل کا سامنا کر سکتا ہے ان کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے بعد صوبوں کی زیادہ ذمہ داریاں ہیں، جہاں تک اٹھارہویں ترمیم کا تعلق ہے یہ حکومت کی تاریخی اور آئینی کامیابیاں تھیں۔ 2008ء سے 2013ء تک کی پیپلز پارٹی کی حکومت میں سیلاب آیا تو اس وقت ہم نے عارضی طورپر اس کا مقابلہ کرنے کیلئے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی متعارف کرائی اس کے مقصد مالی انتظام کرنا تھا تاکہ سیلاب متاثرین کی مدد کر سکیں۔
یہ پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی 18 ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کی خلاف ورزی ہے، اس سے جمع ہونے والی رقم صوبوں کو بھی ملنی چاہئے۔ یہ پٹرولیم لیوی آج تک جمع کی جا رہی ہے تاہم صوبوں کو اس میں سے حصہ نہیں دیا جا رہا، ان کو اپنے وسائل اور حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر صوبائی حکومتوں نے آئی ایم ایف پروگرام کیلئے پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے قربانی دی، ہر سال صوبائی حکومتوں سے یہ تقاضا کیا جاتا ہے کہ وہ اپنا بجٹ سرپلس دکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب نے سب سے زیادہ اپنے حصے کی قربانی دی ہے، اس سال انہوں نے 900 ارب روپیہ سرپلس دکھایا ہے یہ پیسے صوبہ پنجاب کا حق ہے یہ ملتان، ڈی جی خان سمیت دیگر پسماندہ علاقوں میں خرچ کیا جا سکتا ہے تاہم قومی مفاد کیلئے آئی ایم ایف پروگرام کو پورا کرنے کی غرض سے صوبائی حکومت نے یہ قربانی دی، صوبہ سندھ نے گزشتہ سال 300 ارب روپے اور اس سال 400 ارب روپے کی قربانی دی جو لیاری اور کورنگی سمیت دیگر پسماندہ علاقوں پر خرچ کئے جا رہے تھے،
اسی طرح صوبہ خیبرپختونخوا نے بھی سرپلس بجٹ دکھایا، یہ رقم قبائلی علاقوں پر خرچ کی جا سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے ان ضم شدہ اضلاع کے لوگوں نے دہشت گردی کیخلاف قربانیاں دی ہیں ان کیلئے جتنے ترقیاتی بجٹ وقف کرنا تھا صوبائی اور وفاقی حکومت اس میں ناکام رہی ہیں ہم اپنے وعدے پورے نہیں کر سکے۔ موجودہ بجٹ میں بھی ہم اس میں ناکام رہے ہیں، قبائلی علاقوں کو ٹیکس میں جوریلیف دیا جا رہا تھا وہ بھی 2026ء میں ختم ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے معاشی حالات بھی سب کے سامنے ہیں، بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسرائیل اور انڈیا کا گٹھ جوڑ افغانستان اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں،
ایسے مشکل وقت میں پاکستان کی تمام اکائیوں نے قربانی دی، خیبرپختونخوا میں اپوزیشن کی حکومت ہے تاہم انہوں نے بھی اپنا سیاسی اور اختلاف کو ایک طرف رکھ کر قومی مفاد میں اپنا حصہ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے کہ اس پر انہیں سراہتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سیاسی اختلاف رائے ہو سکتے ہیں تاہم قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہے اگر اسی طرح سے ہم آگے بڑھیں تو کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کا ہم مقابلہ نہ کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ملکر نمو پر محیط اقتصادی پالیسیاں متعارف کرائیں تاکہ ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کیا جا سکے اور اپنی تمام تر ترقیاتی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام عالمی سطح پر تسلیم شدہ پروگرام ہے، اس پر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی رپورٹس موجود ہیں عالمی دنیا اسے ایک کامیابی منصوبہ سمجھتی ہے اس سے پسماندہ طبقے کو مالی معاونت اور معاشی طور پر سپورٹ کیا جا رہا ہے اس کے بجٹ میں اضافہ ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیر خزانہ اور خاص طور پر وزیراعظم کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اس کی مخالفت میں باتیں ہونے کے باوجود اس کے بجٹ میں اضافہ کیا،
یہ غریبوں کے مشکل وقت کا سہارا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے غریب، یتیم اور بیوائوں کی کفالت کی جا رہی ہے جو ہماری دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، اس رقم سے وہ اپنی بنیادی ضرورتیں پوری کرتا ہے، یہ قومی سلامتی کا پروگرام ہے پاکستان کو اس وقت دہشت گردی اور بیرونی مداخلت کا مقابلہ ہے، اس کے ساتھ ساتھ انتہا پسندی اور علیحدگی پسند تنظیموں سے مقابلہ ہے اور ان کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہے، دنیا کی طاقتیں اور سرمایہ ان کے پیچھے ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کو علم ہے کہ کسی بھی بیرونی مداخلت کا مقابلہ صرف ہتھیاروں سے نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کیلئے اصل طاقت قومی یکجہتی اور عوام کا اعتماد ہے۔ ایسے حالات میں شہری اس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، اسی سے ملک مستحکم ہوتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان میں پسماندہ اور کمزور طبقات جب تک ترقی نہیں کرینگے ملکی معیشت ترقی نہیں کرے گی اور امیر امیر تر جبکہ غریب غریب تر ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی زراعت ترقی کرے گی تو ملک ترقی کرے گا۔ پاکستان کی معاشی ترقی کا مطلب یہ ہے کہ یہاں پر نوجوانوں کو روزگار ملے، یہ طے کیا جائے کہ ہم نے معاشی ترقی کا فائدہ پاکستان کے عوام تک پہنچانا ہے،
پسماندہ علاقوں کو ریلیف پہنچانا ہے تو میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان ترقی کرے گا اور خوشحال ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ گوادر ترقی کا زینہ ہے، سی پیک کے تحت ہم نے لاہور میں اورنج ٹرین ، بجلی کے منصوبے لگائے، اس میں اب ایسٹرن روٹ شامل کیا گیا ہے اس سے پختونخوا اور بلوچستان کے دہشت گردی سے متاثرہ پسماندہ علاقے میں ترقی ہو گی اور انہیں معاشی فوائد ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت قرض پر چل رہا ہے، قرض ادا کرنے کیلئے بھی مزید قرض لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے جس طرح عام انتخاباب میں پیپلز پارٹی پر اعتماد کیا ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں گلگت بلتستان کو نام اور اختیارات پیپلز پارٹی نے دیئے،
وہ سب سے زیادہ محب وطن لوگ ہیں جنہوں نے خود آزادی لے کر کہا کہ وہ اسے پاکستان کا حصہ بنانا چاہتے ہیں، ہم نے وہاں سے ایف سی آر کا خاتمہ کیا انہیں سیاسی حقوق بینظیر بھٹو نے دیئے۔ صدر آصف علی زرداری نے انہیں شناخت دی میں نے گلگت بلتستان کے عوام سے وعدہ کیا ہے کہ ان کے حق حاکمیت اور حق ملکیت کا تحفظ کیا جائے گا، اس کیلئے جدوجہد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی بنیاد کشمیر کاز پر رکھی گئی۔ انہوں نے مہاجرین کشمیر کی آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں نشستوں کے حوالے سے اپنی جماعت کا موقف دیتے ہوئے کہا کہ ایکشن کمیٹی قانون ہاتھ میں لینے والوں کو قانون کے حوالے کرے، احتجاج ختم کرے پھر ان کیخلاف کئے گئے نوٹیفکیشن واپس لینے پر بات ہو سکتی ہے، معاہدے میں رہ جانے والے نکات پر عملدرآمد کیلئے بھی پیش رفت ہو سکتی ہے تاہم اس کیلئے سیاسی اور جمہوری راستہ اختیار کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک کشمیریوں کو استصواب رائے نہیں ملتا ہمیں سوچنا ہو گا کہ ہم نے انہیں کس طرح ساتھ لیکر چلنا ہے، ایسے اقدامات اٹھانے ہونگے تاکہ انہیں یہ محسوس ہو کے وہ اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔ ہمیں ایسا اتفاقِ رائے پیدا کرنا چاہیے جس میں نہ تو مہاجرین کی نمائندگی اور ووٹ کے حق پر سمجھوتہ ہو، اور نہ ہی احتجاج کرنے والوں کے تحفظات نظر انداز کیے جائیں۔ ہماری تجویز یہ ہے کہ جس طرح خواتین، اوورسیز پاکستانیوں اور ٹیکنوکریٹ کیلئے مخصوص نشستیں موجود ہیں، اسی طرح مہاجرین کی نمائندگی کو بھی موثر اور یقینی بنایا جائے۔ یہ ایک اہم مسئلہ ہے جس کا حل نکالا جانا ضروری ہے،
لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ اس تنازع کی وجہ سے کوئی جانی نقصان ہو۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک بار پھر احتجاج کرنے والوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ کشمیر کاز اور کشمیر کی ساکھ کو نقصان سے بچائیں۔ ہم آزاد کشمیر کو آزاد اور پرامن دیکھنا چاہتے ہیں نہ کہ اسے کسی بھی ایسے حالات میں دیکھنا جو مقبوضہ کشمیر جیسے مسائل کی عکاسی کرے۔اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین مل کر بیٹھیں، بات چیت کریں اور ایک پرامن اور قابلِ قبول حل تلاش کریں۔ انہوں نے کہا کہ مودی کی تمام سازشیں ناکام ہونگی، وہ پاکستان کے حصے کا پانی روکنے اور سندھ طاس معاہدے کے خاتمے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ مودی کی یہ بھول ہے اس مقابلہ کرنے کیلئے پوری قوم تیار ہے اگر مودی پاکستان کا پانی بند کرنے پر تلا ہوا ہے تو پاکستان جنگ کیلئے تیار ہے پاکستان کا بچہ بچہ اس کیلئے تیار ہے۔








