پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر طلحہ محمود نے کہا ہے کہ ملک کے دور دراز علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے خاطر خواہ فنڈز کی فراہمی اور ان پر شفاف انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ پسماندہ علاقوں کی ترقی ممکن ہو سکے
ملک کے دور دراز علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے خاطر خواہ فنڈز کی فراہمی اور ان پر شفاف انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے ، سینیٹر طلحہ محمود

مزید خبریں
اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر طلحہ محمود نے کہا ہے کہ ملک کے دور دراز علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے خاطر خواہ فنڈز کی فراہمی اور ان پر شفاف انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ پسماندہ علاقوں کی ترقی ممکن ہو سکے۔جمعرات کو سینیٹ میں وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2026-27 پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں صنعتی ترقی اور کاروباری طبقے کی حوصلہ افزائی وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ کسی بھی ملک کی معیشت اس کی صنعت پر انحصار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقے کو سہولتیں فراہم کرنے اور ٹیکس نظام کو آسان بنانے کی ضرورت ہے تاکہ سرمایہ کاری میں اضافہ ہو اور معیشت مضبوط ہو سکے۔ انہوں نے ٹیکس پالیسی میں تسلسل اور اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صنعت و تجارت کے شعبے کو دباؤ کے بجائے سہولت دی جانی چاہئے۔سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ہزارہ اور چترال سمیت دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولیات، صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لئے زیادہ وسائل مختص کئے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ چترال میں سڑکوں، بجلی، مواصلات اور صحت کے مراکز کی صورتحال بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مقامی آبادی کو سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی اور معیار کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں توانائی کے نظام کو بہتر بنانے، تعلیمی اداروں میں جدید سہولیات فراہم کرنے اور نوجوانوں کے لئے فنی تربیت کے مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق مہارت حاصل کر سکیں۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ پی ایس ڈی پی کے تحت منصوبوں کے لئے خاطر خواہ فنڈز فراہم کرے اور ان پر شفاف انداز میں عملدرآمد یقینی بنائے تاکہ پسماندہ علاقوں کی ترقی ممکن ہو سکے۔








