موجودہ جمہوری حکومت کے چار سال ، اپوزیشن کی منفی اور غیر جمہوری طرز سیاست کے باوجود انفراسٹرکچر، توانائی، انتخابی اصلاحات سمیت اہم کامیابیاں مسلم لیگ (ن) کا کریڈٹ، چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی اہمیت کو دنیا بھر نے تسلیم کیا،پارلیمنٹ سے 125 مختلف بل منظور کرائے، ستمبر 2016ءکے بعد سے آئی ایم ایف سے کوئی قرضہ نہیں لیا گیا، قومی گرڈ میں بجلی میں نمایاں اضافہ ہوا اسلام …
موجودہ جمہوری حکومت کے چار سال ، اپوزیشن کی منفی اور غیر جمہوری طرز سیاست کے باوجود انفراسٹرکچر، توانائی، انتخابی اصلاحات سمیت اہم کامیابیاں مسلم لیگ (ن) کا کریڈٹ

مزید خبریں
موجودہ جمہوری حکومت کے چار سال ، اپوزیشن کی منفی اور غیر جمہوری طرز سیاست کے باوجود انفراسٹرکچر، توانائی، انتخابی اصلاحات سمیت اہم کامیابیاں مسلم لیگ (ن) کا کریڈٹ، چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی اہمیت کو دنیا بھر نے تسلیم کیا،پارلیمنٹ سے 125 مختلف بل منظور کرائے، ستمبر 2016ءکے بعد سے آئی ایم ایف سے کوئی قرضہ نہیں لیا گیا، قومی گرڈ میں بجلی میں نمایاں اضافہ ہوا
اسلام آباد ۔ 27 جولائی (اے پی پی) موجودہ جمہوری حکومت برسر اقتدار آئے ہوئے چار سال مکمل ہوچکے ہیں، اپوزیشن کی منفی اور غیر جمہوری طرز سیاست کے باوجود ان چار سالوں میں انفراسٹرکچر، توانائی، انتخابی اصلاحات سمیت اہم کامیابیاں پر مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے حصے میں آئیں ، چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے نے پاکستان کی اہمیت دنیا بھر میں مسلمہ ہے اور ماہرین اسے خطے کے لئے گیم چینجر قرار دے رہے ہیں جبکہ 46ارب ڈالر کی یہ سرمایہ کاری چین کی جانب سے آئندہ ایک ڈیڑھ دہائی تک پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے میں معاون ہو گی۔ موجودہ حکومت کے دور میں گو کہ تحریک انصاف کی غیر جمہوری اور تھرڈ ایمپائر کی منشاءپر چار ماہ تک پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے دھرنے کی وجہ سے چینی صدر کے پاکستان دورے کو ملتوی کرنے سے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ 6ماہ تاخیر کا شکار ہوا تاہم حکومتی کاوشوں سے چینی صدر کا دورہ پاکستان پر 51مفاہتمی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔ انرجی ، انفراسٹرکچر ،سکیورٹی اور وسیع اقتصادی ترقی کے شعبوں میں 56ار ڈالر کی منصوبے شامل ہیں۔ موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آنے پر ملک میں توانائی کی شدید قلت کاسامنا تھا ، بجلی کی لوڈ شیڈنگ کادورانیہ شدید گرم موسم میں 20 ،20 گھنٹے تک پہنچ چکا تھا تاہم حکومت کی طرف سے سی پیک منصوبے کے تحت 34ارب ڈالر اس شعبہ کے لئے وقف کئے گئے جبکہ 12ارب ڈالر انفراسٹکچر کے لئے مختص کئے گئے جن پر تیزی سے کام جاری ہے ۔ لوڈ شیڈنگ میںنمایاں کمی واقع ہوئی ہے، تھرمل، کول اور ہائیڈل کے کئی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔ قومی گرڈ میں بجلی میں نمایاں اضافہ ہوچکا ہے اور 2018ءمیں قوم کا اس عفریت سے مکمل نجات مل جائے گی۔








