موجودہ حکومت کسانوں کو تمام سہولیات کی فراہمی کیلئے پرعزم ہے، لائیو سٹاک اور فشریز کے شعبوں میں بھرپور فوائد اٹھانے کیلئے کوشاں ہیں، منافع بخش عالمی منڈیوں تک رسائی کیلئے مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے گی،وفاقی وزیر صاحبزادہ محبوب سلطان

اسلام آباد ۔ 17 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تجفظ و تحقیق صاحبزادہ محبوب سلطان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کسانوں کو تمام سہولیات کی فراہمی کیلئے پرعزم ہے، لائیو سٹاک اور فشریز کے شعبوں میں بھرپور فوائد اٹھانے کیلئے کوشاں ہیں، منافع بخش عالمی منڈیوں تک رسائی کیلئے مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے گی، کسان کی خوشحالی اور پیداوار میں اضافہ ملکی ترقی …

اسلام آباد ۔ 17 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تجفظ و تحقیق صاحبزادہ محبوب سلطان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کسانوں کو تمام سہولیات کی فراہمی کیلئے پرعزم ہے، لائیو سٹاک اور فشریز کے شعبوں میں بھرپور فوائد اٹھانے کیلئے کوشاں ہیں، منافع بخش عالمی منڈیوں تک رسائی کیلئے مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے گی، کسان کی خوشحالی اور پیداوار میں اضافہ ملکی ترقی کی ضامن ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو وفاقی زرعی کمیٹی (ایف سی اے) کے اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔ وفاقی زرعی کمیٹی کے اجلاس میں صوبائی محکمہ زراعت، سٹیٹ بینک آف پاکستان، زرعی ترقیاتی بینک، این ایف ڈی سی، محکمہ موسمیات، ارسا، موسمیاتی تبدیلی اور پلاننگ کمیشن کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ربیع فصل 2018-19ء کا جائزہ لیا گیا اور خریف فصل 2019-20ء کے اہداف مقرر کئے گئے۔ اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ سیزن 2018-19ء کے دوران گندم کی پیداوار کا ہدف 25.16 ملین ٹن ہے جبکہ 8.83 ملین ہیکٹرز رقبہ پر گندم کاشت کی گئی ہے، چنے کی پیداوار کا ہدف ربیع سیزن کے دوران 439 ہزار ٹن ہے جبکہ 943.7 ہزار ہیکٹرز اراضی پر چنا کاشت کیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران آلو، پیاز اور ٹماٹر کی فصل اور پیداوار کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے خریف کی فصل 2019-20ء کے اہداف مقرر کرتے ہوئے کپاس کی پیداوار کا ہدف 15 ملین گانٹھیں اور چاول کی پیداوار کا ہدف 7433 ہزار ٹن مقرر کیا۔ ایف سی اے کے اجلاس کے دوران مکئی، دال مونگ، دال ماش، مرچ، گنے کی پیداوار کے بھی اہداف مقرر کئے گئے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ خریف سیزن 2019-20ء کیلئے پانی کی دستیابی کا کوئی مسئلہ نہیں ہو گا اور فصلوں کیلئے وافر مقدار میں پانی دستیاب ہو سکے گا اور تمام صوبے پانی کی فراہمی سے متعلق گذشتہ سال کے مقابلہ میں مطمئن ہیں۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ سیزن کے دوران موسم کی صورتحال اور اس کے اثرات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ چاول اور مکئی کے بیج کی صورتحال تسلی بخش ہے۔ سٹیٹ بینک کے نمائندوں نے بتایا کہ زرعی شعبہ کیلئے قرضوں کی فراہمی میں گذشتہ کئی سالوں سے بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ کمیٹی نے فرٹیلائزر سبسڈی سکیم کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے فصلوں پر اچھے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور ربیع سیزن 2018-19ء کے دوران کھاد کی دستیابی تسلی بخش رہی ہے۔ کمیٹی نے ملک میں موجودہ فوڈ سکیورٹی کی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا اور زرعی شعبہ میں تحقیقی و ترقیاتی سرگرمیوں کے فروغ اور تمام شراکت داروں کے درمیان رابطوں کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تجفظ و تحقیق صاحبزادہ محبوب سلطان نے کہا کہ موجودہ حکومت کسانوں کو تمام سہولیات کی فراہمی کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لائِیوسٹاک اور فشریز کے شعبوں میں ترقی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں اور ہم ان سے بھرپورفائدہ اٹھانے کیلئے کوشاں ہیں، غذائی خودکفالت کیلئے ہمیں اپنے وسائل کا مؤثر استعمال اور جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد ایک فعال اور مؤثر سرمایہ کاری کے ماحول کا قیام ہے اور مختلف زرعی مصنوعات کی ویلیوایڈیشن پر سرمایہ کاری کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی ایمرجنسی کے پروگرام کے تحت 290 ارب روپے کی لاگت سے مختلف منصوبوں پر کام شروع ہو گا، ہم منافع بخش عالمی منڈیوں تک رسائی کیلئے بھی مؤثر حکمت عملی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کو برآمدات میں اضافہ کیلئے مؤثر حکمت عملی اپنانا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ایف سی اے کے پروگرام کے فورم پر ہم زراعت کے شعبہ میں درپیش مسائل کا احاطہ کرکے ان کی بہترین منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کو چاہئے کہ زرعی شعبہ میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے کام کریں اور اس سلسلہ میں وفاقی حکومت بھی تعاون کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خوردنی تیل میں خودکفالت سے قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکتا ہے، کسان کی خوشحالی اور زرعی پیداوار میں اضافہ ملکی ترقی کی ضامن ہے۔

Leave a Reply