اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ موسمیاتی مالیات اور پائیدار ترقی کے لیے عملی، ہم آہنگ اور مستقبل بینی پر مبنی حکمتِ عملی اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پائیدار ترقیاتی پالیسی ادارے (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام منعقدہ 28ویں پائیدار ترقیاتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ وزیرِ خزانہ نے …
موسمیاتی مالیات اور پائیدار ترقی کے لیے عملی، ہم آہنگ اور مستقبل بینی پر مبنی حکمتِ عملی اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔سینیٹر محمد اورنگزیب

مزید خبریں
اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ موسمیاتی مالیات اور پائیدار ترقی کے لیے عملی، ہم آہنگ اور مستقبل بینی پر مبنی حکمتِ عملی اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پائیدار ترقیاتی پالیسی ادارے (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام منعقدہ 28ویں پائیدار ترقیاتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ وزیرِ خزانہ نے ملکی و غیر ملکی مندوبین کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتِ حال کے باوجود عالمی معیشت میں ساختی اصلاحات، نجی شعبے کی سرگرمیوں اور محدود تجارتی تحفظات کی بدولت لچک برقرار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ممالک کو بڑھتے ہوئے تجارتی تحفظات اور سپلائی چین میں تبدیلیوں کے تناظر میں ممکنہ بیرونی جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے اپنے مالی اور بیرونی استحکام کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ ڈیجیٹل مالیات کے ابھرتے ہوئے منظرنامے پر بات کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے ’’پاکستان کرپٹو کونسل‘‘ کے قیام اور ’’ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی‘‘ کے قیام سے متعلق قانون سازی کا ذکر کیا جو پارلیمنٹ میں زیرِ غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ورچوئل اثاثوں اور بلاک چین ٹیکنالوجی سے متعلق نقطۂ نظر ملکی خطرات اور ریگولیٹری ترجیحات کے مطابق رہے گا تاکہ سرمایہ کے غیر قانونی اخراج، منی لانڈرنگ اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
موسمیاتی مالیات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سینیٹر اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کے پاس ایک جامع فریم ورک موجود ہے جس میں نیشنل ایڈاپٹیشن پلان، نیشنل ڈٹرمینڈ کنٹریبیوشنز (NDCs)، وی-20 کے ساتھ کلائیمٹ پراسپیرٹی پلان، اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ گرین ٹیکسونومی، اور باکو میں متعارف کرائی گئی نیشنل کلائمیٹ فنانس اسٹریٹجی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ عالمی مالیاتی خلا اب بھی وسیع ہے، لیکن پاکستان کے پاس موجودہ وسائل اور ڈھانچوں کے تحت مؤثر عمل درآمد کے لیے کافی گنجائش موجود ہے۔ وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے خاطر خواہ معاونت حاصل کی ہے جن میں آئی ایم ایف کے “ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فیسلٹی” کے تحت 1.3 ارب ڈالر، ایشیائی ترقیاتی بینک سے 50 کروڑ ڈالر اور عالمی بینک گروپ کے ساتھ 10 سالہ ’’کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک‘‘ شامل ہے جس کے تحت سالانہ 2 ارب ڈالر کی شراکت زیادہ تر موسمیاتی تبدیلی اور آبادی سے متعلق چیلنجز پر مرکوز ہے۔
سینیٹر اورنگزیب نے کہا کہ عالمی موسمیاتی مالیاتی فنڈز جیسے ’’گرین کلائمیٹ فنڈ‘‘ اور’’لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ‘‘ محدود اور پیچیدہ ہیں، اس لیے پاکستان کو اپنے وسائل، نجی سرمایہ اور مارکیٹ پر مبنی طریقوں جیسے گرین بانڈز اور کاربن مارکیٹس کے ذریعے مالیات پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے نجی شعبے کی اختراعی کاوشوں جیسے ’’اکیومن‘‘ کے 9 کروڑ ڈالر کے کلائمیٹ ایکشن فنڈ اور سندھ کے مینگرووز کاربن کریڈٹ منصوبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان ماڈلز کو قومی سطح پر وسعت دینا اور اپنانا ضروری ہے۔
انہوں نے ’’ڈیٹ فار نیچر سویپس‘‘ جیسے تصورات کے فروغ اور بین الاقوامی معیار کے مطابق سرمایہ کاری کے قابل موسمیاتی منصوبوں کی تیاری اور نگرانی کے لیے تکنیکی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ سینیٹر اورنگزیب نے کہا کہ مالیات کی وزارتوں کا ماحولیاتی عمل کو قومی پالیسیوں میں شامل کرنے میں کلیدی کردار ہے کیونکہ اگر ماحولیاتی ترجیحات قومی بجٹ کا حصہ نہ ہوں تو وہ قومی پالیسی کا حصہ نہیں بن سکتیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت معیشت اور مالیاتی منصوبہ بندی میں موسمیاتی تبدیلی اور آبادی کے نظم کو ترجیح دے رہی ہے۔
وزیرِ خزانہ نے اپنے خطاب کے اختتام پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اجتماعی ذمہ داری اور ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو نئے پالیسی ذرائع تلاش کرنے سے قبل موجودہ وسائل اور مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خود ذمہ داری لینا، بہتر ہم آہنگی پیدا کرنا اور فوری طور پر ان وجودی مسائل کے حل کے لیے آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے ایس ڈی پی آئی اور اس کے بین الاقوامی شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پائیدار، جامع اور ماحولیاتی لحاظ سے مضبوط اقتصادی ترقی کے لیے حکومت کے عزم کو دہرایا۔








