اسلام آباد۔21دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے ہر دور میں بلیک میلنگ کی سیاست کی، کبھی بےنظیر کے نام پر فتویٰ دے کر ڈیزل کی پرچیاں لیں، کبھی نواز شریف کو انڈین ایجنٹ کہ کر حکومت کا حصہ بنے، کبھی پرویزمشرف کو آمر کہہ کرایک صوبے میں حکمرانی کرلی،ان کے 25 ، 25 لاکھ روپے والے بنگلے 10 …
مولانا فضل الرحمن نے ہر دور میں بلیک میلنگ کی سیاست کی،ان کا 25 لاکھ والا گھر 3 کروڑ روپے میں خریدنے کو تیار ہوں، جن کا کوئی کاروبار ہےنہ کوئی نوکری وہ کہاں سے ارب پتی بن گئے، وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد۔21دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے ہر دور میں بلیک میلنگ کی سیاست کی، کبھی بےنظیر کے نام پر فتویٰ دے کر ڈیزل کی پرچیاں لیں، کبھی نواز شریف کو انڈین ایجنٹ کہ کر حکومت کا حصہ بنے، کبھی پرویزمشرف کو آمر کہہ کرایک صوبے میں حکمرانی کرلی،ان کے 25 ، 25 لاکھ روپے والے بنگلے 10 گنا زیادہ قیمت پر خریدنے کو تیار ہوں، حکومت دھمکیوں سے نہیں ڈرتی، نوازشریف کو مفرور اور اشتہاری عدالتوں نے قرار دیا ہے۔ کل کی بجائے آج اسلام آباد آئیں اور کل کی بجائے آج استعفے دیں۔ پیر کو یہاں وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ جن کا نہ کوئی کاروبار ہے ، نہ کوئی نوکری ہے، وہ کہاں سے ارب پتی بن گئے۔ہر دور میں انہوں نے ڈرامے بازی کی ہے۔ کبھی بینظر بھٹو کے نام پر فتویٰ دے دیا اور ڈیزل کی پرچیاں لے لیں۔ نواز شریف کو انڈین ایجنٹ کہا اور اس کی حکومت کا حصہ بن گئے۔ پھر پرویز مشرف کوآمر کہہ کر ایک صوبے میں حکمرانی کر لی۔ انہوں نے کہا کہ کیا یہ ڈرامے بازی اس لئے ہے کہ عمران خان جو کسی چیز پر سمجھوتا نہیں کرتے وہ ایک صوبے میں حکمرانی یا انہیں کشمیر کمیٹی دے دیں۔ مولانا نے پہلے کشمیر کمیٹی میں سوائے چوری اور لوٹ مار کے کیا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک حالیہ انٹرویو میں انہیں جب کہا گیا کہ عدالتوں میں جا کر اپنے آپ کو صادق اور امین قرار دلوائیں تو یہ جواب دیتے ہیں کہ میں عدالتوں میں کیوں جائوں۔ کیا یہ لوگ آئین اور قانون سے بالا تر ہیں۔ کیا اسلام یہ سیکھاتا ہے کہ وہ آئین اور قانون سے بالا تر ہیں۔ حکومت کسی کو مذہب کے نام پر کھلواڑ نہیں کرنے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے اپنے جو اثاثہ ظاہر کئے ہیں ان میں 6 گھر 25،25 لاکھ کے ہیں میں ان کا ایک 25 لاکھ والا گھر 3 کروڑ روپے میں خریدنے کو تیار ہوں۔ بیٹھے بٹھائے اتنا منافع دے رہا ہوں۔ وہ فروخت کر دیں۔ سارا فراڈ سامنے آ جائے گا۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ڈرا دھمکا کر بدمعاشی اور غنڈہ گردی سے حکومت کی عملدرادی کو چیلنج کریں گے تو ایسا نہیں کرنے دیں گے۔ کل کی بجائے استعفے دو، آج ہی اسلام آباد آﺅ ، آپ نے پہلے اسلام آبادمیں کیا کیا۔ کیا ہم آپ کو ڈیزل کے پرمٹ دیں گے، اربوں روپے کے اثاثے دے دیں گے، بے نامی جائیدادیں دے دیں گے، ایسا کچھ نہیں ہونے والا، جو زور لگانا ہے لگالیں لیکن ہم خبردار کررہے ہیں کہ مذہب کے نام پر لوگوں کو گمراہ کرنے کاجو تماشا آپ کررہے ہیں اور معصوم بچوں کو گمراہ کرکے سڑکوں پر لا کر ان خون سے ہولی کھیل کر اقتدار پا لیں گے تو ایسا نہیں ہونے دیںگے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ اپوزیشن کے کارکنوں کی زندگیاں خطرے میں پڑیں اور دوسرا یہ کہ ہم ماڈل ٹائون جیسا واقعہ بھی نہیں چاہتے۔ یہ تحریک کے نام پر لوگوں کو مار کر حکومت پر الزام لگانا چاہتے ہیں۔ میڈیا کو مولانا فضل الرحمن کی جائیداد کے خود چھان بین کرنی چاہیے، اگر ہم غلط ہوں تو ہمارا گریبان پکڑیں اگر مولانا فضل الرحمن غلط ہیں تو پھر ان کا پکڑنا چاہیے۔ نیب بھی انکوائری کررہاہے۔ انہوں نے کہا کہ شہیدوں کی جائیدادیں آپ نے کھائی ہیں۔ ہم مذہب کے ساتھ کھلواڑ نہیں کرنے دیں گے۔ عدلیہ اور اداروں کے خلاف جو غلط زبان استعمال کرے گا ہم اس کی سیاست کو زمین بوس کردیں گے۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی بلیک میلنگ کے سامنے نواز شریف ، زرداری اور مشرف جھک گئے تھے لیکن عمران خان جھکنے والے نہیں ہیں۔ مولانا فضل الرحمن مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے ہاتھ میں ڈنڈے اور بندوقیں پکڑ کر کے انہیں گمراہ کر کے سڑکوں پر لاتے ہیں۔ اب لوٹ کھسوٹ، ڈیزل کے پرمٹ حاصل کرنے کازمانہ نہیں ہے۔ پی ڈی ایم اے میں11 جماعتیں ہیں لیکن اکیلے عمران خان ان کے سامنے کھڑے ہیں کیونکہ وہ قوم کو دھوکانہیں دینا چاہتے۔ ملک کو ترقی پسند بنانے کے لئے اقدامات کررہے ہیں۔ڈو مورکے مطالبے تسلیم نہیں کررہے۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کررہے ہیں ۔ پارلیمنٹ فعال ہے جس کی وجہ سے یہ اپوزیشن بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ تحقیقاتی ادارے خود مختار اور آزاد ہیں۔ انہیں اپنا کام کرنے دیا جائے گا۔ ہم نے پہلی بار دیکھا ہے کہ مولانا کا ایک بھائی ایک عام نوکری سے جی ایم ڈی گروپ میں گیا ہے۔ مولانا سے بھی یہ سوال بنتا ہے کہ آپ نے اتنی جائیدادیں کہاں سے بنائیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں سے گزارش ہے کہ وہ کووڈ۔19 کی وبا میں اپنے آپ کو مرنے سے بچائیں۔ یہ اپوزیشن جماعتیں کئی لوگوں کو مارنے کے چکر میں ہیں۔ حکومت دھمکیوں سے نہیں ڈرتی۔ ان ڈاکوئوں نے ہمیشہ اقتدار اور کشمیر کمیٹیوں کو استعمال کیا اور دشمن ملک کی زبان بولی اور ہر چیز کو متنازع بنانے کی کوشش کی ہے۔ اب ایسا نہیں کرنے دیں گے۔ نیب نے اڑھائی سال میں مولانا فضل الرحمن کے اثاثوں کے بارے میں تحقیقات کی ہیں۔ حکومت کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمن پچھلی بار بھی دھرنے سے جس طرح گئے تھے اپنی مرضی سے آئے تھے اور اپنی مرضی سے گئے تھے ۔اس مرتبہ بھی اسی طرح اس بار بھی وہ آئیں گے اور جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میرا کیس عدالت میں ہے۔ میں مولانا فضل الرحمن کی طرح کوئی دھمکی دے رہا ہوں اور نہ ہی بھاگ رہا ہوں۔ اپوزیشن کو تو ہم شروع دن سے کہہ رہے ہیں کہ یہ چور اور بے ایمان ہیں۔ عدالت نے نواز شریف کو سزا دی۔ بھگوڑا، اشتہاری اور مفرور قرار دیا ہے۔








