مٹر کے زیر کاشت رقبے و پیداوار میں اضافہ، 2023 کے دوران1 لاکھ 44 ہزار 422 ٹن پیداوار حاصل ہو ئی،ماہرین زراعت

فیصل آباد۔ 23 جولائی (اے پی پی):ماہرین زراعت نے کہا ہے کہ پاکستان میں مٹر کے زیر کاشت رقبے اورپیداوار میں اضافہ ہوا ہے ،گزشتہ سال 22436 ہیکٹر رقبے پرمٹرکی کاشت سے1 لاکھ 44 ہزار 422 ٹن مٹر کی پیداوار حاصل ہو ئی جس کی اوسط سبز پھلی کی پیداوار6.44 ٹن فی ہیکٹر بنتی ہے ، پنجاب میں اس کی پیداوار1 لا کھ 12 ہزار 2 سو67 ٹن ہے ۔ایوب …

فیصل آباد۔ 23 جولائی (اے پی پی):ماہرین زراعت نے کہا ہے کہ پاکستان میں مٹر کے زیر کاشت رقبے اورپیداوار میں اضافہ ہوا ہے ،گزشتہ سال 22436 ہیکٹر رقبے پرمٹرکی کاشت سے1 لاکھ 44 ہزار 422 ٹن مٹر کی پیداوار حاصل ہو ئی جس کی اوسط سبز پھلی کی پیداوار6.44 ٹن فی ہیکٹر بنتی ہے ، پنجاب میں اس کی پیداوار1 لا کھ 12 ہزار 2 سو67 ٹن ہے ۔ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آبادکے شعبہ فوڈ ٹیکنالوجی کے ماہرین نے بتایاکہ پاکستان میں مٹر کی اقسام کلائمیکس، پیسن، روندو، اللکا،گرین فیسٹ،موتی پاک،گرین کراس،مشن،لینا پاک،کلاسک،9374،پی ای اے09،سپر لینا،1800 اور چیمپین وغیرہ کاشت کی جاتی ہیں جو شاندار پیداواری صلاحیت کی حامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ مٹر میں پروٹین کے علاوہ کئی اہم معد نیات بھی پا ئی جاتی ہیں جو صحت کےلئے مفید ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ مٹر اپنی غذائی خصوصیات کی وجہ سے ملک میں مو سم سرما کی اہم فصل ہے اور یہ اب پوری دنیا کی طرح پاکستان کے مختلف علاقوں میں ہر موسم میں کا شت کیا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مٹر کی نشوونما کےلئے معتدل آب و ہوا موزوں ہے ، بیج کے اچھے اگاؤ کےلئے 20 سے 25 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے ، پنجاب کے شمالی اور وسطی علاقے فصل کی کاشت کےلئے موزوں ہیں۔ ماہرین زراعت نے کہا کہ پنجاب میں گوجر انوالہ، ننکا نہ صاحب، ملتان، سا ہیوال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، سیا لکوٹ،چنیوٹ، جھنگ،فیصل آباد اور شیخوپورہ مٹر کا شت کر نے والے بڑے اضلاع ہیں جہاں اس کی فصل ز یادہ تر اکتوبر اور نو مبر کے مہینوں میں کا شت کی جا تی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مٹر کی اگیتی اقسام کو 75 سینٹی میٹر چوڑی پٹڑیوں کے دونوں جانب کاشت کیا اور بیج 5 سینٹی میٹر کے باہمی فاصلے پر 2سے 3سینٹی میٹر گہرا لگایا جاتا ہے جس میں پچھیتی اقسام کی کاشت کےلئے پٹریوں کی چوڑائی1تا 1.5سینٹی میٹر جبکہ پودوں کا درمیانی فاصلہ8تا 10 سینٹی میٹر رکھا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بیج والی فصل کو ہموار زمین پر بذریعہ ڈرل تروتر میں کاشت کیا جاتا ہے جس میں قطاروں کا باہمی فاصلہ 30 سینٹی میٹر اور پودوں کا باہمی فاصلہ7تا 10سینٹی میٹررکھا جاتا ہے۔