مکمل لاک ڈاو¿ن سے ملک میں سنگین مضمرات پڑسکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ حکومت اس بارے میں فیصلہ نہیں کررہی ہے،وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خصوصی گفتگو

اسلام آباد ۔ 22 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ مکمل لاک ڈاو¿ن سے ملک میں سنگین مضمرات پڑسکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ حکومت اس بارے میں فیصلہ نہیں کررہی ہے، حکومت نے ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے کیلئے تمام تر ضروری اقدامات اٹھائے ہیں، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی وباءکو روکنے کے لئے …

اسلام آباد ۔ 22 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ مکمل لاک ڈاو¿ن سے ملک میں سنگین مضمرات پڑسکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ حکومت اس بارے میں فیصلہ نہیں کررہی ہے، حکومت نے ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے کیلئے تمام تر ضروری اقدامات اٹھائے ہیں، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی وباءکو روکنے کے لئے پاکستانی حکومت کے فوری اقدامات کی تعریف کی ہے، سندھ میں لاک ڈاﺅن کرنا صوبائی حکومت کا اپنا فیصلہ ہے، وفاق مداخلت نہیں کر سکتا، فوج صرف صوبائی حکومت کی مدد کرے گی، حکومت سے جو ہو سکتا تھا وہ کیا، جس طرح کا خطرہ ہوتا ہے اسی طرح کا ریسپانس ہوتا ہے۔ اتوار کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں عوام کو سیلف آئیسولیشن کا مشورہ دیا ہے کیونکہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا علاج سے بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبے خود مختار ہیں اور وہ اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں، ملک کی چاروں صوبائی حکومتوں نے وفاق سے صوبوں میں فوج کی تعیناتی کی اپیل کی ہے تاکہ وہ نازک صورتحال پر قابو پا لیں۔ وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا کہ فوج کو طلب کرنے کو لاک ڈاﺅن نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ مسلح افواج نے ہمیشہ مشکل وقت اور آفات سے نمٹنے کیلئے حکومت کو مدد فراہم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے وائرس کی روک تھام کیلئے بروقت اقدامات اٹھائے جس کے باعث دوسرے ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں صورتحال کافی بہتر ہے، پاکستان میں ووہان اور قم کی طرح کا وباءکا کوئی مرکز نہیں ہے، پاکستان میں تمام متاثرہ افراد دوسرے مالک سے آئے ہوئے ہیں۔