مہنگائی کی وجہ ملک میں ماضی میں کی گئی لوٹ مار ہے، شیخ رشید احمد

راولپنڈی۔30نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہاہے کہ وزیر اعظم عمران خان پی ڈی ایم کے جلسوں سے جانے والے نہیں ہیں۔اپوزیشن ہوش کے ناخن لے،سیاست بند گلی میں داخل ہوجائے تو سیاسی حادثات رونما ہوتے ہیں، خطہ کی صورتحال سے بے خبر نہیں ،اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔وزیرریلوے شیخ رشید احمد نے پنڈی ریلوے سٹیشن پر کوہاٹ ایکسپریس اور راولپنڈی لاہور ریل کار …

راولپنڈی۔30نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہاہے کہ وزیر اعظم عمران خان پی ڈی ایم کے جلسوں سے جانے والے نہیں ہیں۔اپوزیشن ہوش کے ناخن لے،سیاست بند گلی میں داخل ہوجائے تو سیاسی حادثات رونما ہوتے ہیں، خطہ کی صورتحال سے بے خبر نہیں ،اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔وزیرریلوے شیخ رشید احمد نے پنڈی ریلوے سٹیشن پر کوہاٹ ایکسپریس اور راولپنڈی لاہور ریل کار سبک خرام کی بحالی کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نہ کرے عمران خان مائنس ہوں وہ پانچ سال پورے کریں گے، مولانا فضل الرحمن حکومتی رٹ کو لاٹھی کہتے ہیں ، یہ لاٹھی نہیں قانون کی کی عمل داری اور کورونا سے بچانے کا اہتمام ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ بلاول کو پشاور سے کورونا ہوا، شہباز شریف نے ڈائیلاگ کی بات کی ڈائیلاگ ہونے چاہئیں ، فضل الرحمن سے کہتا ہوں بند گلی یں مت جائیں۔مہنگائی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہاکہ آٹے ،چینی کی قیمت نیچے آئی ہے، قیمتیں مزید کم ہوں گی ،کرشنگ کا سیزن بھی شروع ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر میں خطہ کی صورتحال پر میٹنگ ہوئی، ہماری انکھیں کھلی ہیں ، پاکستان کو سرحدوں سے کوئی خطرہ نہیں،ملک میں انتشار پھیلانے کی کوشش ایک سازش ہے۔وفاقی وزیر نے کہاکہ جس کابینہ میں شیخ رشید ہو وہاں اسرائیل تسلیم نہیں ہو سکتا۔پاکستان کے لوگوں نے عمران کو ووٹ دیا،مہنگائی کی وجہ ملک میں ماضی میں کی گئی لوٹ مار ہے۔کون وزیر اعظم چاہتا ہے کہ ملک میں مہنگائی ہو۔ لئی ایکسپریس پر وزیر اعظم بھی میٹنگ کر چکے،میں یہ منصوبہ مکمل کرکے سیاست سے ریٹائر ہونا چاہتا ہوں، لئی ایکسپریس اور ایم ایل ون پر سولہ سال قبل دستخط کئے،دونوں منصوبوں کو مکمل کریں گے،شہباز شریف کی ایک مثبت رائے ہے تاھم نواز شریف کی الگ رائے ہے۔ مسلم لیگ میں ذمہ دار لوگ بھی اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ فوج پر تنقید ہو۔ دنیا کی سیاست میں اداروں کا کردار ہوتا ہے ۔کسی خاص مقصد کے لیے نشانہ بنانا مناسب نہیں، لیڈر بہادر ہوتا ہے،میدان میں لڑائی لڑی جاتی ہے۔کورونا وائرس یہ نہیں یکھتا کہ کوئی لیڈر ہے یا ورکر ہے۔