نامور افسانہ نگار اور صحافی محمد حسن عسکری کی برسی منائی گئی

اسلام آباد۔18جنوری (اے پی پی):اردو ادب کے نامور نقاد، افسانہ نگار اور صحافی محمد حسن عسکری کی برسی اتوار کو منائی گئی۔محمد حسن عسکری 5 نومبر 1919ء کو الٰہ آباد میں پیدا ہوئے اور ان کا اصل نام اظہار الحق تھا ۔انہوں نے 1942ء میں الٰہ آباد یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا جہاں انھوں نے فراق گورکھپوری اور پروفیسر کرار حسین جیسے اساتذہ سے استفادہ کیا۔ محمد …

اسلام آباد۔18جنوری (اے پی پی):اردو ادب کے نامور نقاد، افسانہ نگار اور صحافی محمد حسن عسکری کی برسی اتوار کو منائی گئی۔محمد حسن عسکری 5 نومبر 1919ء کو الٰہ آباد میں پیدا ہوئے اور ان کا اصل نام اظہار الحق تھا ۔انہوں نے 1942ء میں الٰہ آباد یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا جہاں انھوں نے فراق گورکھپوری اور پروفیسر کرار حسین جیسے اساتذہ سے استفادہ کیا۔ محمد حسن عسکری نے پہلی ملازمت آل انڈیا ریڈیو دہلی میں بطور اسکرپٹ رائٹر اختیار کی۔ اسی زمانے میں شاہد احمد دہلوی اور رسالہ ساقی سے ان کا تعلق قائم ہوا۔

1941ء اور 1942ء میں بالترتیب کرشن چندر اور عظیم بیگ چغتائی پر ان کے دو طویل مضامین شائع ہوئے۔ 1943ء میں فراق گورکھپوری نے ساقی میں باتیں کے عنوان سے مستقل کالم لکھنا شروع کیا،جنوری 1944ء میں اس کالم کا عنوان جھلکیاں رکھ دیا گیا۔ یہ کالم 1947ء کے فسادات کے تعطل کے علاوہ کم و بیش پابندی سے نومبر 1957ء تک چھپتا رہا۔ محمد حسن عسکری اینگلو عربک کالج دہلی میں انگریزی کے استاد رہے، بعد ازاں وہ میرٹھ چلے گئے جہاں وہ میرٹھ کالج میں انگریزی پڑھاتے رہے۔

1947ء میں قیام پاکستان کے بعد لاہور منتقل ہو گئے۔ وہاں انھوں نے سعادت حسن منٹو کے ساتھ مل کر مکتبہ جدید لاہور سے اردو ادب جاری کیا جس کے صرف دو شمارے شائع ہو سکے۔محمد حسن عسکری 1950ء میں کراچی منتقل ہو گئے۔ ابتدا میں وہ فری لانس ادیب کے طور پر ترجمے اور طبع زاد تحریریں لکھتے رہے۔ جنوری سے جون 1950ء تک ماہ نو کراچی کے مدیر بھی رہے۔ پھر انھوں نے کراچی یونیورسٹی سے ملحق کالج میں انگریزی کے استاد کے فرائض انجام دیئے۔محمد حسن عسکری کا شمار اردو کے اہم افسانہ نگاروں میں بھی کیا جاتا ہے۔

ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’جزیرے‘‘ 1943ء میں شائع ہوا تھا۔ 1946ء میں دوسرا مجموعہ ’’قیامت ہم رکاب آئے نہ آئے‘‘ شائع ہوا جب کہ تنقیدی مضامین ’’انسان اور آدمی‘‘ اور ’’ستارہ اور بادبان‘‘ کے نام سے شائع ہوئے۔محمد حسن عسکری کی دیگر تصانیف میں ’’جھلکیاں‘‘ ، ’’وقت کی راگنی‘‘ اور ’’جدیدیت اور مغربی گمراہیوں کی تاریخ کا خاکہ‘‘ شامل ہیں۔بحیثیت نقّاد اردو ادب کے علاوہ عالمی افسانوی ادب پر ان کی گہری نظر تھی۔

انھوں نے فرانسیسی ادب سے اردو تراجم کئے جو ان کی زبان و بیان پر گرفت کا ثبوت ہیں۔محمد حسن عسکری نے زندگی کے آخری ایام میں مفتی محمد شفیع‌ کی قرآن مجید کی تفسیر کا انگریزی میں ترجمہ شروع کیا جس کی ایک جلد ہی مکمل ہوسکی اور 18 جنوری 1978ء کو اردو ادب کا نامور ستارہ اس جہان فانی سے کوچ کر گیا۔محمد حسن عسکری دارالعلوم کورنگی کراچی میں آسودۂ خاک ہیں۔ ان کی برسی کے موقع پر علمی وادبی اور صحافتی حلقوں نے ان کی خدمات کے اعتراف بھر پور انداز میں خراج تحسین پیش کیا۔