نوجوان محققین اور سائنسدانوں کو جدید علم، عملی مہارتوں اور تحقیقی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کے ذریعے مستقبل کے عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جائے، خالد حسین مگسی

اسلام آباد۔31اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے کہا ہے کہ نوجوان محققین اور سائنسدانوں کو جدید علم، عملی مہارتوں اور تحقیقی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کے ذریعے مستقبل کے عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جائے،اقتصادی ترقی کے میدان میں پاکستان کی تاریخی کامیابیاں ہماری قومی صلاحیت کا مظہر ہیں، پاکستان کے نوجوان فکری اور تخلیقی صلاحیتوں میں پوری دنیا میں …

اسلام آباد۔31اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے کہا ہے کہ نوجوان محققین اور سائنسدانوں کو جدید علم، عملی مہارتوں اور تحقیقی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کے ذریعے مستقبل کے عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جائے،اقتصادی ترقی کے میدان میں پاکستان کی تاریخی کامیابیاں ہماری قومی صلاحیت کا مظہر ہیں، پاکستان کے نوجوان فکری اور تخلیقی صلاحیتوں میں پوری دنیا میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل سینٹر فار فزکس اسلام آباد میں پانچ روزہ انیسویں انٹرنیشنل سمپوزیم آن ایڈوانسڈ میٹیریلز2025 کی اختتامی تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سائنسی مستقبل روشن اور ترقی کی راہوں پر گامزن ہے، ہمارے نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں ۔انہوں نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مسلسل سیکھنے اور اختراعات کے عمل نے اسے عالمی ٹیکنالوجی کی قیادت تک پہنچایا ہے۔

پاکستان ایڈوانسڈ مٹیریلز فورم کے صدر مرزا رضوان بیگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ انٹرنیشنل سمپوزیم آن ایڈوانسڈ مٹیریلزگزشتہ تین دہائیوں سے پاکستان میں سائنسی ترقی، بین الاقوامی تعاون اور صنعت و اکیڈمیا کے درمیان روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے نوجوان پاکستانی محققین کو عالمی ماہرین سے استفادہ کرنے اور اپنی تحقیق کو عملی شکل دینے کے مواقع میسر آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سینٹر آف ایکسیلنس برائے ایڈوانسڈ مٹیریلز کے قیام کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جو صنعت، توانائی اور دفاع جیسے کلیدی شعبوں میں تحقیق، جدت اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے قومی پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔سمپوزیم کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی نمائش 5RISE 202 بھی منعقد کی گئی،روس، ملائیشیا، چین، انڈونیشیا، ترکی اور ناروے سمیت مختلف ممالک کے 20 سے زائد بین الاقوامی ماہرین نے ISAM-2025 میں شرکت کی۔

نمائش میں قومی و بین الاقوامی اداروں اور صنعتی شراکت داروں کی جانب سے سائنسی و تحقیقی کامیابیاں اور جدید مصنوعات پیش کی گئیں۔بین الاقوامی مندوبین نے پاکستان کے بڑھتے ہوئے سائنسی نظام، نوجوان محققین کی استعداد اور تحقیقی اداروں کے معیار کو سراہا۔ شرکاء نے حکومتِ پاکستان کے اس اعلان کا بھی خیر مقدم کیا کہ قائداعظم یونیورسٹی میں نیشنل سینٹر فار ایڈوانسڈ مٹیریلز قائم کیا جائے گا،

جسے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نام سے منسوب کیا جائے گا تاکہ ملک کی خود انحصاری کے لیے ان کی عظیم خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔یہ سمپوزیم پاکستان ایڈوانسڈ مٹیریلز فورم کے زیرِ اہتمام اور انسٹیٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی کے اشتراک سے منعقد کیا گیا، جس میں دنیا بھر کے معروف سائنسدانوں، انجینئرز، محققین اور صنعتی ماہرین نے شرکت کی۔

مزید خبریں