اسلام آباد۔3دسمبر (اے پی پی):قومی احتساب بیورو (نیب) کے ایگزیکٹو بورڈ نے بدعنوانی کے دو ریفرنس دائر کرنے،3 انوسٹی گیشنز اورسابق وزیر خزانہ اسحق ڈار، سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ سمیت دیگر کے خلاف 7انکوائریوں کی منظوری دی ہے۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹر ز اسلام آبادمیں منعقد ہوا ۔اجلاس میں ڈپٹی چئیرمین …
نیب کی بدعنوانی کے دو ریفرنس دائر کرنے،3 انوسٹی گیشنز اورسابق وزیر خزانہ اسحق ڈار، سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ سمیت دیگر کے خلاف 7انکوائریوں کی منظوری

مزید خبریں
اسلام آباد۔3دسمبر (اے پی پی):قومی احتساب بیورو (نیب) کے ایگزیکٹو بورڈ نے بدعنوانی کے دو ریفرنس دائر کرنے،3 انوسٹی گیشنز اورسابق وزیر خزانہ اسحق ڈار، سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ سمیت دیگر کے خلاف 7انکوائریوں کی منظوری دی ہے۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹر ز اسلام آبادمیں منعقد ہوا ۔اجلاس میں ڈپٹی چئیرمین نیب ، پراسیکیوٹر جنرل اکائو نٹبلٹی نیب ،ڈی جی آپریشن نیب ،ڈی جی نیب راولپنڈی ،اور دیگر سینئر افسران نےشرکت کی۔ نیب کی یہ دیرینہ پالیسی ہے کہ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بارے میں تفصیلات عوام کو فراہم کی جائیں جو طریقہ گزشتہ کئی سالوں سے رائج ہے جس کا مقصد کسی کی دل آزاری مقصود نہیں ۔ تمام انکوائریاں اورانویسٹی گیشنز مبینہ الزامات کی بنیاد پر شروع کی گئی ہیں جوکہ حتمی نہیں۔ نیب ،قانو ن کے مطابق تمام متعلقہ افراد سے بھی ان کا موقف معلوم کر نے کے بعد مزید کارروائی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں2ریفرنسز کی منظوری دی گئی۔ جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں اسد اللہ فیض سابق ڈائریکٹر اسٹیٹ منیجمنٹ سی ڈی اے،شاہد مرتضیٰ بخاری ،سابق ڈپٹی ڈائریکٹرجنرل اسٹیٹ منیجمنٹ سی ڈی اے،محمد ارشدڈی اے اواسٹیٹ منیجمنٹ ٹوسی ڈی اے،مقبول احمد،سابق اکائونٹس آفیسر اسٹیٹ منیجمنٹ سی ڈی اے،عطاءالرحمن،سعیدالرحمن،منوراحمداورمحمد احمد کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ملزمان پر مبینہ طورپرغیرقانونی طورپر کلینک کیلئے مختص پلاٹ کو کمرشل مقاصد کیلئے الاٹ کرنے کا الزام ہے۔جس سے قومی خزانے کو 91.964ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں اے ایس بابر ہاشمی سابق سفیر ایمبیسی آف پاکستا ن صوفیہ،محمد طفیل قاضی،سابق اکائوٹنٹ ایمبیسی آف پاکستا ن صوفیہ کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ملزمان پر مبینہ طورپرسفارتخانہ کے فنڈز میں خردبرد کرنے کا الزام ہے۔جس سے قومی خزانے کو کروڑوںروپے کا نقصان پہنچا۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں (3) انوسٹی گیشنز کی منظوری دی گئی۔ جن میں سید طلعت محمودچیف ایگزیکٹیو آفیسر زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ اور دیگرکے خلاف(2) انوسٹی گیشنز جبکہ پاکستان سپورٹس بورڈ لیاقت جمنازیم کے افسران /اہلکاران اور دیگر کے خلاف انوسٹی گیشن کی منظوری شامل ہے۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں (7) انکوائریز کی منظوری دی گئی۔ جن میں اسحق ڈار،سابق وزیر خزانہ،سید مہدی شاہ ، سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان، سید طلعت محمودچیف ایگزیکٹیو آفیسر زید ٹی بی ایل اور دیگر،وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے افسران/اہلکاران اور دیگر ،ملک تنویر اسلم اعوان سابق رکن صوبائی اسمبلی پنجاب اور دیگر ،نمرا تنویر ، راحیلہ اصغر، اصغر نواز،میسرزجیو ماسٹر ز پرائیویٹ لمیٹڈ،میسرز جیو ماسٹر انٹر نیشنل لمیٹڈکی انتظامیہ اور دیگر کے خلاف انکوائریز شامل ہیں۔
قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں ڈاکٹر منظور حسین سومروسابق چئیرمین پاکستان سائنس فائونڈیشن حکومت پاکستان،وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے افسران /اہلکاران اور دیگر کے خلاف تحقیقات کا معاملہ وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو بھجوانے کی منظوری دی۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں وزارت خارجہ کے افسران اور دیگر کے خلاف پاکستان ایمبیسی ٹوکیوجاپان کی عمارت کی فروخت کا معاملہ مزید کارروائی کیلئے وزارت خارجہ کو بھجوا نے کی منظوری دی گئی۔ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں سی ڈی اے کے افسران/اہلکاران اور دیگر کے خلاف انٹیگریٹیڈ ریسورس منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے حوالے سے جاری انکوائری متعلقہ کمپنی کی طرف سے منصوبہ مکمل کرنے اور اب تک عدم شواہد کی بنیاد پرقانون کے مطابق بند کرنے کی منظوری دی گئی۔چئیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب احتساب سب کیلئے کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ اورکرپشن فری پاکستا ن نیب کی اولین ترجیح ہے۔نیب نے احتساب سب کےلئے کی پالیسی کے تحت 466 ارب روپے بلواسطہ اور بلا واسطہ طور پر بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے ۔نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الا قوامی اداروں نے سراہا ہے جو نیب کےلئے اعزازکی بات ہے۔ نیب پاکستان کا انسداد بدعنوانی کا قومی ادارہ ہے۔نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت ،گروہ اور فرد سے نہیں بلکہ صرف اور صرف ریاست پاکستان سے ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مفرور اور اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لئے قانو ن کے مطابق تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ بدعنوان عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا جا سکے۔ چیئرمین نیب نے ہدایت کی کہ شکایات کی جانچ پڑتال ، انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز مقررہ وقت کے اندر قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانے کے علاوہ انوسٹی گیشنز اورپراسیکوٹرز پوری تیاری کے ساتھ معزز عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کریں تاکہ بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جاسکے۔








